بھارت کے 3 مسلمان صحافیوں کو 9 سال کی قید؟
رعنا ایوب، صبا نقوی اور محمد زبیر کے خلاف ایف آئی آر میں متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

بھارت کے 3 صحافیوں کو تشدد کا شکار بزرگ مسلمان شہری کی حمایت کرنے پر 9 سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ عالمی تنظیم رپوٹرز ودآؤٹ باڈرز (آر ایس ایف) نے رعنا ایوب، صبا نقوی اور محمد زبیر کے خلاف مقدمے کو خارج کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
انڈیا میں انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے۔ اس حوالے سے مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر آواز اٹھانے والے صحافی بھی گھیرے میں آسکتے ہیں۔ بھارت کے 3 صحافیوں رعنا ایوب، صبا نقوی اور محمد زبیر کو تشدد کا نشانہ بننے والے مسلمان شہری کی حمایت کرنے پر ساڑھے 9 سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔
چند روز قبل انڈیا کی ریاست اترپردیش میں بزرگ مسلمان شہری پر تشدد کیا گیا تھا جس کے بعد متاثرہ شخص عبدالصمد سیفی کا کہنا تھا کہ انتہا پسندوں نے ان کی داڑھی کاٹ دی اور ان سے جے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے کہا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد جہاں انڈین اداکارہ سوارا بھاسکر نے واقعے کی مذمت کی وہیں مسلمان صحافی بھی اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائے بغیر نہ رہ سکے۔ ان تینوں صحافیوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس زیادتی کی مذمت کی تو اترپردیش پولیس نے تینوں صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کردی۔
یہ بھی پڑھیے
ٹوئٹر پر انڈیا میں نفرت پھیلانے کا الزام
رعنا ایوب، صبا نقوی اور محمد زبیر کے خلاف فساد برپا کرنے، مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، مذہبی عقائد کی توہین کرنے اور مجرمانہ سازش کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
آر ایس ایف کے ایشیاء پیسیفک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تینوں صحافیوں پر لگائے جانے والے تمام تر الزامات بے بنیاد ہیں۔ ڈینیئل باسٹرڈ نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے درخواست کی ہے کہ تینوں صحافیوں پر عائد الزامات کو فوری طور پر واپس لینے کا حکم دیا جائے۔









