پاکستان میں تین ماہ میں پہلی بار 1000 سے زائد کورونا کیسز رپورٹ

این سی او سی کے حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 2.32 فیصد رہی جبکہ موذی مرض سے متاثرہ 5 مریض انتقال کرگئے۔

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے درمیان 1000 سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اسی عرصے کے دوران کورونا سے متاثرہ مزید 5 مریض انتقال کر گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ علامات واضح ہیں کہ پاکستان وائرس کی 5ویں لہر میں داخل ہو چکا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ مزید خراب ہوسکتی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اکتوبر 2021 کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے کورونا کیسز ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ملک بھر میں غیر معیاری اور جعلی ادویات کی بھرمار کا انکشاف

کورونا کیسز میں اضافہ، کراچی میں بازاروں کے اوقات کم کرنے پر غور

این سی او سی کے مطابق پاکستان میں 14 اکتوبر 2021 کے بعد پہلی بار 6 جنوری 2022 کو ایک دن میں 1,000 سے زیادہ کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 46 ہزار 585 کورونا وائرس کے نمونوں کے ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں 1,085 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ مہلک وائرس سےمتاثرہ 600 مریضوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کیسز کی مثبت شرح 2.32 فیصد ریکارڈ کی گئی ، جو دو ہفتے پہلے کی شرح سے نصف سے زیادہ تھی۔

وزارت صحت کے حکام نے کیسز میں اچانک اضافے کی وجہ کورونا وائرس کے نئے Omicron ویرینٹ کو قرار دیا ہے۔ اب تک موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق کورونا نے سب سے زیادہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں 350 سے زیادہ فعال Omicron کیسز ہیں۔

بدھ کے روز میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے متنبہ کیا تھا کہ کیسز بڑھیں گے کیونکہ نیا ورژن بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے گھر سے نکلتے ہوئے ماسک لگائیں ، خود اور گھر والوں کو ویکسینیٹ کرائیں ، ہجوم والے علاقوں سے پرہیز کریں ، عوامی اجتماعات میں مناسب وینٹیلیشن کو یقینی بنائیں۔

اومی کرون Omicron  کی مختلف قسم

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، اومیکرون، جو پہلی بار جنوبی افریقہ میں رپورٹ ہوا تھا ، انتہائی خطرناک وبائی مرض ہے جو انسانی صحت کے نظام کو بری طرح سے متاثر کررہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ڈبلیو ایچ او نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ "کووڈ 19 کی نئی قسم Omicron سے دنیا کا صحت کا نظام بوری طرح سے متاثر ہوگا۔ نئے شواہد سے پتا چلا ہے کہ Omicron ویریئنٹ کو ڈیلٹا ویرینٹ کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ خطرناک ہے۔”

Facebook Comments Box