وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد، کیا پی ڈی ایم  کا نیا شوشہ ہے؟

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ منی بجٹ کا مقابلہ کریں گے، 74 برس میں پی ٹی آئی سے زیادہ کرپٹ حکومت نہیں دیکھی۔

وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پی ڈی ایم نے ایک بار پھر تحریک عدم اعتماد کا اشارہ دے دیا ہے۔ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات میں اس کی تصدیق بھی کردی گئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) صدر شہباز شریف نے کہا کہ آج کی ملاقات میں لانگ مارچ سمیت حکومت مخالف تحریک پر غور کیا گیا۔ پچیس جنوری کو سربراہی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کس بھارتی ہیروئن نے مفتی قوی کو شادی کی پیشکش کی تھی؟

ہر دور کا ایک بحران ہوتا ہے ہمارا بحران عمران خان ہے، بلاول بھٹو زرداری

شہباز شریف نے کہا کہ تاریخ کی نالائق حکومت کے خلاف قانونی اور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ عدم اعتماد کو سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کریں گے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ منی بجٹ کا مقابلہ کریں گے، 74 برس میں پی ٹی آئی سے زیادہ کرپٹ حکومت نہیں دیکھی۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام دشمن منی بجٹ اور اس کے ذریعے پاکستانی کے معاشی ادارے بیرونی قوتوں کے حوالے کرنے کے کی سازش کے بعد تئیس مارچ کا لانگ مارچ اور بھی زیادہ ناگزیر ہو گیا، مہنگائی مارچ میں پوری قوم شریک ہو گی، حکومت کے اتحادیوں کو بھی موجودہ حالات میں سوچنے کا کہتے ہیں۔

جے یو آئی ف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخاب میں مداخلت نہ ہونے پر سب نے نتائج دیکھ لیے، پی ٹی آئی دوسرے مرحلے میں دھاندلی کی تیاری کر رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن غلام نہ بنے، خود کو متنازعہ نہ بنائے، کسی بھی ہتھکنڈے کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ  موجودہ حکومت کو سی پیک کے کسی بھی منصوبے کے افتتاح کا حق نہیں۔ 5 فروری کو سی پیک کے اہم منصوبے ہقلہ سے ڈی آئی خان سڑک کا افتتاح عوام کریں گے اور اس روڈ پر موجود تمام اضلاع، تحصیلوں کے لوگ اس میں شامل کیے جائیں گے۔

متعلقہ تحاریر