یونان میں برفانی طوفان، وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ

اپوزیشن رہنما نے کہا کہ 24 گھنٹے تک ملک میں افراتفری پھیلی رہی، ہزاروں شہری سڑکوں پر پھنسے رہے، وزیراعظم سمیت پوری حکومت استعفیٰ دے۔

یونان اور اس کے جزائر میں شدید برفانی طوفان نے تباہی مچا دی جس کی وجہ سے سیاسی صورتحال بھی کشیدہ ہوگئی، حزب اختلاف کے مرکزی رہنما نے وزیراعظم مٹسوٹاکیز سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔

سابق وزیراعظم الیکسز سیپراز کی طرف سے یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب برف میں پھنس جانے والے کار سوار افراد جن میں سے اکثریت بزرگ شہریوں کی تھی، انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشنز پر مدد کیلیے فون کیے۔

یہ شہری 20 گھنٹوں سے ایتھنز کے قریب ایک 65 کلومیٹر طویل موٹروے پر پھنسے ہوئے تھے۔ برفانی طوفان پیر کی رات آیا جس نے ملک بھر میں افراتفری پھیلا دی۔

حکام کے مطابق امدادی رضاکاروں نے موٹروے پر موجود 3500 شہریوں کو رات بھر کام کرکے ریسکیو کیا لیکن 1200 کے قریب شہری راستے میں ہی پھنسے رہے۔

اس کے علاوہ ہزاروں افراد کو راستے بند ہونے کی وجہ سے سڑکوں اور ہائی ویز پر ہی رکنا پڑا۔

دارالحکومت ایتھنز کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی نہیں تھی جس کے سبب سینکڑوں خاندانوں نے اپنی گاڑیوں میں ہیٹر چلا کر وقت گزارا کیونکہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے گر گیا تھا۔

اپوزیشن رہنما نے کہا کہ ملک میں 24 گھنٹے تک افراتفری پھیلی رہی اور شہری اذیت میں مبتلا رہے جب کہ وزیراعظم جو اس تمام مسئلے کیلیے ذمہ دار ہیں وہ کہیں نظر نہیں آئے۔

اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ جتنا جلدی یہ حکومت مستعفی ہوگی، اتنی جلدی یہ یہاں سے جائیں گے اور یہ اس ملک کیلیے اتنا ہی زیادہ بہتر ہوگا۔

یونان کے کلائمیٹ کرائسز اور سول پروٹیکشن منسٹر نے حکومت کی ناکامی پر معافی مانگی اور کہا کہ انتظامیہ گاڑی میں پھنسنے والے ہر فرد کو دو ہزار یورو معاوضہ دے گی۔

شدید برفانی طوفان کو ایلپس کا نام دیا گیا ہے، ایلپس نے اس ہفتے کے آغاز سے ہی ملک میں تباہی مچا رکھی ہے، فضائی، زمینی اور ٹرین کے تمام راستے خراب ہوئے ہیں۔

یونان کے بالائی علاقوں میں برفباری عام ہے لیکن ایتھنز کے مرکز اور ملک کے جزائر میں برفباری کم ہی ہوتی ہے۔

برفباری سے متاثرہ 6 شہروں میں دو دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا، اسکول، سرکاری دفاتر اور بینکس بند رکھے گئے۔

متعلقہ تحاریر