سندھ کا نیا بلدیاتی قانون ، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے جمہوریت کا خاصہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے ایک دوسرے کے موقف کو سنا جائے۔
جمہوریت کا راگ الاپنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے گذشتہ متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کی پرامن ریلی پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے کے پولیس کے ذریعے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کرا دی۔ جس کے بعد شہر کے حالات کشیدہ ہو گئے۔ رات گئے تک شہر کے متعدد علاقوں میں نامعلوم افراد نے زبردستی دکانیں بند کرادی۔
طے شدہ روٹ کے مطابق ایم کیو ایم کی ریلی شاہراہ فیصل سے ہوتے ہوئے کراچی پریس کلب جا کر اختتام پذیر ہونا تھا ، تاہم ریلی کے شرکاء نے سندھ کے نئے بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اور رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے پہنچ گئے اور ریڈ زون میں داخل ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے
جمہوریت کا راگ الاپنے والی پیپلزپارٹی سندھ میں احتجاج بھی برداشت نہ کرسکی
کراچی میں ایم کیوایم کا بلدیاتی قانون کیخلاف وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا
ایم کیو ایم کی قیادت اور کارکنان کی جانب سے احتجاج شروع ہوا تو پولیس نے اچانک مظاہرین پر ہلہ بول دیا اور لاٹھی چارج شروع کردیا ، اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے جس سے پروٹیست میں موجود درجنوں افراد متاثر ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
پولیس کے لاٹھی چارج سے رکن سندھ اسمبلی صداقت حسین زخمی ہوگئے جنہیں بعد ازاں پولیس نے حراست میں لے لیا ، پولیس نے متعدد کارکنان کو بھی حراست میں لے لیا جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔
خالد مقبول صدیقی کی پریس کانفرنس

بعدازاں پریس کلب کے باہر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا سندھ حکومت نے مہاجروں کی غیرت کو للکارا ہے، کشور باجی کو ڈنڈا مارا گیا ، ایم پی اے صداقت حسین پر تشدد کیا اور ابھی ان کا پتا نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سب کا حساب سندھ حکومت سے لیا جائے گا۔ خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو آج فیصلہ کرنا ہے کہ وہ پاکستان بچانے والوں کے ساتھ ہیں یا توڑنے والوں کے ساتھ۔ اس موقع پر خالد مقبول صدیقی نے آج یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے تاجر برادری سے کاروبار بند رکھنے کی اپیل کی۔
سعید غنی کی میڈیا کو بریفنگ

اس ساری صورتحال پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی قیادت نے ریلی کراچی پریس کلب لے جانے کا وعدہ کیا تھا اور وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچ گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی احتجاج کے خلاف نہیں ہے مگر صورتحال ایسی پیدا ہو گئی تھی کہ ایکشن لینا پڑا ۔
انہوں نے کہا کہ 27 جنوری سے (یعنی آج ) کراچی میں پاکستان سپر لیگ کا ایونٹ شروع ہونے جارہا ہے ، پی ایس ایل میں شریک متعدد کھلاڑی جن میں غیرملکی کھلاڑی بھی شامل ہیں وہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے اردگرد ہوٹلز میں قیام پذیر ہیں۔
اس ساری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے جب ایم کیو ایم کا پلان کراچی پریس کلب جانے کا تھا تو وہ وزیراعلیٰ ہاؤس گئی کیوں؟ پی ایس ایل کی وجہ سے وزیراعلیٰ ہاؤس کے ساتھ ساتھ آس پاس کے علاقے کو بھی ریڈ زون قرار دیا جاچکا ہے کیونکہ سی ایم ہاؤس کے قریب ہوٹلز میں غیرملکی کھلاڑی رہائش پذیر ہیں۔ ایسے میں اُس ایریا میں ایسا سین کیری ایٹ ہوجانا خطرناک بات ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ دوسری جانب سندھ حکومت کا کہنا بھی کافی حد تک غلط نہیں ہے کیونکہ جماعت اسلامی وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے گذشتہ 28 دنوں سے بیٹھی ہے اور احتجاج بھی کررہی ہے مگر پولیس کی جانب سے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ، جبکہ سندھ حکومت کے سرکردہ عہدیداران اور صوبائی وزراء وقتاً فوقتاً ان سے مذاکرات بھی کرتے رہتے ہیں، جو جمہوریت کا حسن ہے ۔ اگر ایم کیو ایم وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچ ہی گئی تھی تو اسے پرامن احتجاج کرنا چاہیے تھا رکاوٹوں کو نہیں توڑنا چاہیے تھا،
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے سندھ حکومت اور سندھ پولیس کو بھی چاہیے تھا کہ مظاہرین پر اس طرح کا بدترین تشدد نہ کرتے اور طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت سے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری 27 فروری کو لاہور سے اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرنے جارہی ہے اگر وفاقی حکومت نے بھی سندھ حکومت کو طرزعمل اختیار کرتے ہوئے تشدد کی راہ اپنا لی تو کیا ہوگا۔ کیونکہ آج تو سعید غنی صاحب اپنے کیے ہوئے تشدد کو درست ثابت کرنے کے لیے تاویلیں پیش کررہے تو اس وقت کیا کہیں گے۔ تاہم جمہوریت کا خاصہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے ایک دوسرے کے موقف کو سنا جائے۔









