امریکا اور برطانیہ نے روس سے تیل کی درآمد پر پابندی لگادی
یوکرینی صدر کا امریکی اقدام پر اظہار مسرت، کہا کہ دیگر ممالک بھی یہی قدم اٹھائیں، اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق روس کو خاص فرق نہیں پڑے گا۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکا میں روس سے تیل اور گیس کی درآمدات پر پابندی لگا دی ہے، یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب واشنگٹن یوکرین پر قبضے کے بعد ماسکو پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رہا ہے۔
برطانیہ نے بھی روس سے تیل کی درآمدات پر پابندی لگا دی ہے لیکن یورپی یونین نے فی الوقت ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور کہا ہے کہ وہ ایک سال کے اندر روس سے گیس کی درآمدات میں دو تہائی کمی کر دے گی۔
امریکی اقدام نے ماسکو کو عالمی معیشت سے علیحدہ کرنے کے لیے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔
اس کے بعد روس کے بڑے بینکوں، حکومتی عہدیداران اور امیر افراد پر بھی پابندیاں لگائی جائیں گی۔
وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکی بندرگاہوں پر روسی تیل کی ہینڈلنگ نہیں کی جائے گی اور امریکی عوام پیوٹن کی جنگی مشینری کو زوردار جھٹکا دیں گے۔
اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا اور برطانیہ میں درآمدات پر پابندی سے عالمی منڈی پر خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ دونوں ممالک کو روس بہت کم تیل درآمد کرتا ہے۔
امریکی صدر کے اس فیصلے کے بعد کریملن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ کچھ اشیا کی درآمد بند کردے گا لیکن تفصیلات واضح نہیں کیں۔
برطانیہ کی چانسلر رشی سوناک نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ روس سے تیل کی درآمد پر پابندی کے بعد صارفین کو اضافی رقم ادا کرنا ہوگی اور کم آمدن والے گھرانے شدید متاثر ہوں گے۔
یورپ کے مقابلے میں برطانیہ کا روسی تیل پر انحصار کم ہے، برطانیہ میں تیل کی کُل درآمدات کا صرف 8 فیصد روس سے درآمد کیا جاتا تھا۔
جرمنی نے یورپ میں روسی خام تیل کی ممانعت کو روکنے کی کوشش کی ہے۔
جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ وہ ماسکو پر متواتر دباؤ جاری رکھیں گے جس کی جرمن صارفین کو بھاری قیمت نہ چکانی پڑے۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ٹویٹ کرتے ہوئے امریکی صدر جوبائیڈن کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پیوٹن کی جنگی مشینری کے دل پر حملہ ہے، دیگر ممالک اور رہنماؤں کو بھی یہ کرنا چاہیے۔
روس دنیا کا سب سے بڑا خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے والا ملک ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق پچھلے سال کے اختتام تک روس یومیہ 8 لاکھ بیرل تیل عالمی منڈی کو فراہم کر رہا تھا۔
روس کی تیل برآمدات کا 60 فیصد یورپ کو جاتا ہے جس میں 2 فیصد تیل برطانیہ کا ہے جبکہ 8 فیصد برآمدات امریکہ کیلیے اور چین کو روس اپنی برآمدات کا 20 فیصد تیل فراہم کرتا ہے۔









