عثمان بزدار کے متحرک ہوتے ہی ترین اور علیم گروپ میں پھوٹ پڑگئی

جہانگیر ترین گروپ نے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کا بائیکاٹ کردیا،علیم خان نے اپنے 40ارکان اسمبلی کو شرکت کی اجازت دیدی، ترین گروپ کے صمصام بخاری،اختر ملک اور آصف نکئی سمیت5ارکان کا وزیراعظم سے ملاقات کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار  کے میدان میں آتے ہی جہانگیر ترین اورعبدالعلیم خان کے گروپ میں پھوٹ پڑگئی۔ علیم خان گروپ نے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں شرکت کا اعلان کردیا۔

صوبائی وزراصمصام بخاری ، اختر ملک اور آصف نئی سمیت باغی گروپ  کے 5 ارکان نے وزیراعلیٰ پنجاب کی حمایت کا اعلان کردیا۔ جہانگیر خان ترین کے ہم خیال گروپ میں بھی اختلافات سامنے آگئے ۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک عدم اعتماد ، حکومت نے شکست سے بچنے کے لیے قانونی توڑ نکال لیا

تحریک عدم اعتماد، معروف صحافی حامد میر تاریخ سے نابلد نکلے

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں شرکت  کے معاملے پر جہانگیر ترین اور علیم خان گروپ میں اختلافات سامنے آگئے۔جہانگیر ترین گروپ نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا جبکہ عبدالعلیم خان نے اپنے حمایت یافتہ40ارکان اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دیدی۔

عبدالعلیم خان نے صوبائی وزیر میاں خالد محمود کو اپنا ترجمان مقرر کر دیا ہے۔ترجمان علیم خان نے اپنے بیان میں کہنا ہے کہ پنجاب کے کسی رکن اسمبلی کو وزیراعظم کے اجلاس میں جانے سے نہیں روکا، وزیراعظم کے اجلاس میں شرکت کرنے والے علیم خان سے اجازت لے کر جا رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ کے متحرک ہوتے ہی ترین  گروپ میں بھی دراڑیں پڑ گئیں کیونکہ ان کے بعض اراکین نے سابق وزیر  عبدالعلیم خان کی وزارت اعلیٰ  کیلیے ممکنہ نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کیا۔

دائیں سے بائیں پنجاب کے وزرا اختر ملک،صمصام بخاری اور آصف نکئی

حالیہ پیش رفت میں ترین گروپ کے صوبائی وزرا صمصام بخاری،اختر ملک،آصف نکئی سمیت سردارخرم لغاری اور ہاشم ڈوگر نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب کے وزیر آصف نکئی نے جہانگیر خان ترین گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی اور کئی دیگر قانون سازوں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی تھی۔

آصف نکئی کے بعد خرم لغاری تھے جنہوں نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عثمان بزدار کو عہدے سے ہٹانے کے جے کے ٹی گروپ کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔

صوبائی وزیر صمصام بخاری نے ترین گروپ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا  ہے کہ وزیراعظم سے آج وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کروں گا۔صمصام بخاری کا کہنا تھا کہ ترین گروپ کے نعمان لنگڑیال سے ذاتی حیثیت میں ملاقات کی، نعمان لنگڑیال چھوٹا بھائی ہے اس سے ذاتی تعلقات ہیں۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ترین گروپ کے کسی سیاسی اجلاس میں کبھی شرکت نہیں کی۔

نیوز 360 نے اس سے قبل خبر دی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان نے جہانگیر خان ترین کے ہم خیال گروپ کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو آزادانہ طور پر ذمہ داریاں ادا کرنے کیلیے  فری ہینڈدے  دیا تھا۔

وزیر اعظم نے وزیراعلیٰ بزدار کو ہدایت کی تھی کہ وہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ ن  کے ارکان اسمبلی سے رابطے کریں اور ساتھ ہی انہیں اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے اراکین اسمبلی کا اعتماد حاصل کرنے کا حکم دیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن پنجاب کے قانون سازوں سے توقع ہے کہ وہ موجودہ وزیراعلیٰ کی حمایت کریں گے جنہیں بزدار انتظامیہ نے ان کے حلقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز دیے تھے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی زیر قیادت حکومت مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے  اراکین صوبائی اسمبلی کی حمایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں ۔

اس کے علاوہ، وزیر اعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو تحریک عدم اعتماد کی کارروائی سے قبل خیبرپختونخوا میں  پیپلز پارٹی کے قانون سازوں کی حمایت حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

متعلقہ تحاریر