فواد چوہدری نے فوج کے خلاف سازش سے قوم کو آگاہ کردیا
وزیراعظم کے معاون شہباز گل کا کہنا ہے بلاول بھٹو گھریلو خواتین کو سیاست میں نہ گھسیٹیں ورنہ آپ کی آپ کی سات نسلوں کی سیاست کو عوام کے سامنے رکھیں گے۔
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے ملک میں منظم طریقے سے فوج جیسے اعلیٰ اداروں کے خلاف سازش ہو رہی ہے، دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے بلاول بھٹو زرداری کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھریلو خواتین کو سیاست میں نہ گھسیٹیں ورنہ آپ کی سات نسلوں کی سیاست کو عوام کے سامنے لے آئیں گے۔
اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی اصلاحات کیا ہیں ، ان کی اصلاحات یہ ہیں کہ ان کو جب بھی اقتدار ملا انہوں نے پاکستان کی فوج پر ویسا ہی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جیسے یہ پولیس کے ساتھ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بلاول بھٹو زرداری سیاسی تاریخ سے نابلد یا جوش خطابت کا اثر
عثمان بزدار کے متحرک ہوتے ہی ترین اور علیم گروپ میں پھوٹ پڑگئی
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اب یہ دوبارہ ویسا ہی کنٹرول بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کا جو کل کا بیان ہے اور جو سوال ہے اس کو جوڑ کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا۔ ایجنڈا دوبارہ یہ دے رہے ہیں کہ ہم ایک ایسی اصلاحات کا نظام بنانا چاہتے ہیں جس سے ہم فوج کے اوپر بھی ایک سیاسی کنٹرول حاصل کرسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ نیا نہیں ہے اس سے پہلے آپ نے دیکھا جب میمو گیٹ کا اسکینڈل آیا تھا ، اس سے کیسے پردہ ہٹا تھا ، پاکستانی فوج کو مسخر کرنے کا خواب آج کا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے، زرداری صاحب کا ، فضل الرحمان اور نواز شریف کا ۔
فواد چوہدری نے انڈین جرنلسٹ کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف خفیہ طور پر کھٹمنڈو گئے اور انہوں نے انڈین پرائم منسٹر مودی سے ملاقات کی ۔ اس میٹنگ کو کسی طور پر بھی ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد نریندر مودی کو بلایا گیا پاکستان میں ، نواز شریف کی نواسی کی شادی میں۔ وہ کابل سے بغیر ویزے کے پاکستان آئے اور نواسی کی شادی میں شرکت کی۔
دورے پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ "اس دورے کے بعد نریندر مودی نے بھارت میں جاکر بیان دیا تھا کہ پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف تو دہشتگرد ہیں مگر نواز شریف انڈیا کے ساتھ مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا تھا کہ ہمارا مذہب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جو لوگ فوت ہو جاتے ہیں ان کا ہر صورت احترام کرنا ہے ۔ قبروں کا احترام کرنا ہے ۔ لیکن کسی کی کی ہوئی کرپشن کو ضرور منظر عام پر لانا ہوتا ہے ۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ کسی بندے نے پانچ سو قتل کیے ہوں اور وہ بندہ اگر مر جائے تو اس کو بہت زیادہ عظیم انسان بنا دیتے ہیں۔ ضرور اس کے لیے مغفرت کی دعا کریں ہم سب نے مرجانا ہے ۔ ضرور مرے ہوئے شخص کا احترام کریں ۔ لیکن اس کے کیے ہوئے قومی کالے کارناموں کو تو بتانا پڑتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کے نانا ذوالفقار علی بھٹو پر تنقید کرتے ہوئے معاون خصوصی شہباز گل کہنا تھا کہ بھٹو صاحب سے متعلق ہم کیوں بات نہیں کرسکتے۔ اصل جو تاریخ ہے وہ عوام کو بتائی نہیں گئی ۔ شام کو پروگرامز میں بیٹھ کر بھٹو کی ڈیموکریسی کے لیچر دیئے جاتے ہیں ، کون سا جمہوری تھا بھٹو ، ایک آمر کی گود میں پلا ، خط موجود ہیں جس میں آمر کو ڈیڈی کہا ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے پرویز مشرف صاحب بعد میں بہت بڑے ڈیموکریٹ ہو جائیں۔ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رہا ۔ پھر ہمارے سر پر چڑکر ناچا جاتا ہے کہ 73 کا آئین دیا تھا۔ 73 کے آئین کو بھٹو صاحب نے صرف چار گھنٹوں کے بعد سسپنڈ کردیا تھا۔
بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں جلسہ کیا مگر ان کے نانا کے دور میں کسی کو اپنی اسمبلی لگانے کی اجازت نہیں تھی۔ بھٹو صاحب نے مخالفین کو قتل کرایا۔ مخالفین کو جیلوں میں ڈلوایا ۔ ہر بورا کام کیا تھا انہوں نے اپنے دور اقتدار میں۔ تمام حقوق معطل کردیے تھے کسی کو بولنے کی اجازت نہیں تھی۔ انہوں نے وہ حقوق کبھی بحال نہیں کیے ، جب تک وہ تختہ دار پر پھانسی نہیں چڑھ گئے۔
بلاول کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا کہ آج بلاول بھٹو نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ خاتون اول کو پیسے دیے بغیر پنجاب میں کوئی تقرری نہیں ہوتی ۔ آپ کی پھپھی تو جیل کاٹ چکی ہیں۔ انکے کارنامے بھی سب کو پتا ہے ۔
ان کا کہنا تھا اگر آپ کے پاس خاتون اول کے بارے میں کوئی ثبوت ہے تو آپ ضرور لے کر آئے ، ورنہ آپ کو تنبیہہ کرتے ہیں ، گھر کی ایسی خواتین جو سیاست میں نہیں ہیں۔ ان کے بارے میں مغلظات نہ فرمائیں۔ ورنہ پھر آپ کو جواب اُسی ٹون میں ملے گا۔ مریم صفدر سیاست میں ہیں ہم ان پر سیاسی حد تک بات کرتے ہیں، ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کبھی بات نہیں کرتے۔ بلاول کی والدہ کرپٹ تھیں انہوں نے کرپشن کی تھی ۔ اس لیے ایسی خواتین کی جانب مت جائیں جو سیاست میں نہیں ہیں۔ اگر بلاول صاحب آپ نے ہماری خواتین پر انگلی اٹھائی تو ہم آپ کی سات نسلوں کی سیاست کو عوام کے سامنے رکھیں گے۔









