تحریک عدم اعتماد پر تشدد کا خطرہ ، حزب اختلاف کا عدالت جانے کا فیصلہ

اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد پر بلاروک ٹوک ووٹنگ کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

متحدہ حزب اختلاف نے تحریک عدم اعتماد کے پرامن انعقاد کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد سے ایک روز قبل ڈی چوک پر جلسے کے اعلان کے بعد ، اس موقع پر کسی بھی قسم کے تصادم سے بچنے کے لیے متحدہ اپوزیشن نے نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی درخواست جمع کرانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مریم نواز نے ایک ہفتے کی ٹویٹس میں 4 مرتبہ عمران خان کو ٹیگ کیا

ای سی پی  ترمیمی آرڈینس کو خلا ف قانون قراردیناقابل ستائش ہے ، احمد بلال محبوب

متحدہ اپوزیشن کی جانب سے تیار کی گئی آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے وقت اراکین قومی اسمبلی کو آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے نہ روکا جائے۔

آئینی درخواست میں کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن حکومت تشدد کو فروغ دینا والا رویہ اختیار کررہی ہے۔ عدالت حکومت کو اس قسم کی کارروائیوں سے رکنے کے احکامات جاری کرے۔

آئینی درخواست جمع کرانے کےلیے حزب اختلاف نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں فاروق ایچ نائیک ، کامران مرتضیٰ اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ ہوں گے۔

مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال اور جے یو آئی (ف) کے رہنما عبدالغفور حیدری بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے رہنما عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ انہوں نے ایسا ماحول پیدا کردیا ہے جس سے اپوزیشن نے بھی تلوار نیام سے نکال لی ہے، اب شائد تلوار کو نیام میں ڈالنا مشکل ہو گا، بات چیت کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا مگر ایسے ماحول میں کیسے بات ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کا ٹولہ مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے ، یہ ٹولہ دھمکیاں دے رہا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ووٹ نہیں ڈالنے دیں گے، مسئلہ ہم نے پیدا ہی نہیں کیا تو بات چیت ہم کیسے کریں۔

مولانا عبدالغفور حیدری کا مزید کہنا تھا کہ یہ لوگ 27 مارچ کو ایک پروگرام کرنا چاہتے ہیں ، ایم این ایز کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں، یہ کھلم کھلا ریاست کے اندر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے، فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا ، ان شاء اللہ سیاسی طور پر ایسی تاریخی شکست دیں گے کہ یہ یاد رکھیں گے۔

یاد رہےکہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے گذشتہ روز پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "کپتان نے ڈی چوک اسلام آباد جلسے کا حتمی فیصلہ کر لیا…. ان شاءا للہ 27 مارچ کو تاریخ ساز اجتماع ہونے جا رہا ہے۔”

متعلقہ تحاریر