جنگ جیو گروپ حکومت کی مخالفت میں جعلی خبریں پھیلانے لگا
جنگ اخبار کی خبر میں تحریک انصاف کے 33 مبینہ منحرف اراکین کے نام شائع کیے گئے، دو ارکان نے رپورٹر سے تصدیق چاہی تو اس نے خبر فائل کرنے کی تردید کردی۔

ملک میں پچھلے کئی ہفتوں سے سیاسی گہما گہمی جاری ہے، اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی ہے۔
اس تحریک کا مقصد وزیراعظم کو ان کے عہدے سے برطرف کروانا ہے جس کے لیے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو 172 ارکان کی حمایت درکار ہے۔
اسی تناظر میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی آپس میں ملاقاتیں ہو رہی ہیں، سیاسی وابستگیاں تبدیل ہو رہی ہیں۔
جنگ اخبار میں 13 مارچ کو ایک رپورٹر کی کریڈٹ لائن کے ساتھ خبر شائع ہوئی کہ تحریک انصاف کے منحرف اراکین کے نام منظر عام پر آگئے۔
خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ قومی اسمبلی سے حکمران جماعت کے 33 ارکان نے اپنی پارٹی سے بغاوت کر دی ہے۔

33 حکومتی اراکین قومی اسمبلی کے نام بھی خبر کا حصہ بنائے گئے۔
بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ اس خبر میں نصراللہ دریشک اور ریاض فتیانہ کے نام بھی شامل ہیں۔
جنگ اخبار نے خبر دی کہ تحریک انصاف کے 33 اراکین منحرف ہو گئے،ان میں سردار نصراللہ دریشک اور ریاض فتیانہ کے نام بھی شامل تھے، ان اراکین نے رپورٹر سے وضاحت چاہی تو پتہ چلا کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کی فہرست والی فیک نیوز اس نے فائل نہیں کی بلکہ یہ ڈیسک پر تیار ہوئی
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) March 13, 2022
ان دونوں شخصیات نے جب خبر فائل کرنے والے رپورٹر سے وضاحت طلب کی تو رپورٹر نے بتایا کہ یہ خبر اس نے نہیں لکھی بلکہ نیوز ڈیسک پر تیار کرکے فائل کی گئی ہے۔
اسی طرح جیو نیوز کی اردو ویب سائٹ پر خبر پوسٹ کی گئی کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے پرویز الہٰی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنانے کے لیے رضامندی کا اظہار کردیا ہے۔

اس خبر پر جیو نیوز کے اپنے اینکرپرسن شہزاد اقبال نے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی کا بیان ٹویٹ کیا۔
سابق وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پرویز الہٰی کو وزارت اعلیٰ دینے کا فیصلہ نہیں ہوا، نا ہی انہیں ایسی کوئی پیشکش کی گئی ہے۔









