ڈراموں میں خواتین پر تشدد کے واقعات دکھانے کا رجحان زور پکڑنے لگا

ڈرامہ سیریل انگنا میں بیوی پر شوہر کے تشدد کے مناظر دکھانے پر اے آر وائی انٹرٹینمنٹ  اور ڈرامے کے کہانی نویس کو شدید تنقید کا سامنا

دور جدید میں جب خواتین  جب زندگی کے تمام شعبوں میں پوری طاقت کے ساتھ ابھر رہی ہے، پاکستانی ڈراموں نے کمزور اور بے بس  دکھانے کیلیے خواتین پر تشدد کے واقعات کی نمایاں انداز میں منظر کشی  کا سلسلہ جاری ہے ۔

ڈرامہ سیریل انگنا میں بیوی پر شوہر کے تشدد کے مناظر دکھانے پر اے آر وائی انٹرٹینمنٹ  اور ڈرامے کے کہانی نویس کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ثنا جاوید کوبدتمیزی مہنگی پڑگئی، رنگ رسیا نے معاہدہ منسوخ کردیا

فلم اسٹار میرا کا پاکستان کے پہلے خواتین ڈرائیونگ ٹیسٹنگ سینٹر کا دورہ

ڈرامہ سیریل  انگنا کی حالیہ اقساط میں سے ایک میں ایسا ہی ایک منظر پیش کیا گیا تھاجس میں دکھایا گیا تھا کہ ایشال (اداکارہ رباب ہاشم)  کی ساس(روبینہ اشرف)  ان کے لباس پر اعتراض کرتی ہیں جس پروہ اپنی صفائی پیش کرتی ہیں تو  ان کے شوہر زین (اداکارعلی عباس)انہیں  تھپڑ ماردیتے ہیں ۔

اس منظر میں دکھایا گیا ہے کہ  ایشال اور ان کے شوہر گھر سے باہر جانے لگتے ہیں تو ان کی ساس انہیں روک کر لباس پر اعتراض کرتی ہیں جس پر وہ انہیں قائل کرنے کی کوشش  کرتی ہیں  کہ  انہیں(زین ) تو اچھی لگ رہی ہوں، جس پراس کی  ساس جارحانہ انداز میں اپنے بیٹے سے پوچھتی ہیں زین کیا واقعی یہ تمہیں اچھی لگ رہی ہے۔ زین  ماں کے سوال پر کچھ بول نہیں پاتا اور  اچانک ایشال کو بغیر کسی وجہ کے تھپڑ ماردیتا ہے  اور کہتا ہے کہ  بحث مت کیا کرو اور جھوٹ مت بولو،موم کہ رہی ہیں کپڑے تبدیل کرو تو تبدیل کرو ۔

واضح رہے کہ پاکستانی ڈراموں میں خواتین پر ہاتھ اٹھانے کا یہ پہلا منظر نہیں ہے۔ اس سے قبل خدا اور محبت، لاپتا، میرے پاس تم ہو، میری ہرجائی اور دیگر ڈراموں میں  بھی خواتین پر تشدد اور انہیں بے عزت کرنے کے واقعات دکھائے جاچکے ہیں ۔ناقدین کا کہنا ہے کہ  پاکستانی ڈراموں میں  بڑھتے ہوئے اس رجحان کو روکنے کی اشد ضرور ت ہے ۔

متعلقہ تحاریر