شہباز شریف کا آرمی چیف کی مدت ملازمت کے سوال پر گول مول جواب

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے مسلم لیگ ن کے صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جس بات کا فیصلہ سال کے آخر میں ہونا ہے اسے اپنی گندی سیاست کی نظر کیا جارہا ہے۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ کریں گے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کریں گے، جو ملک کے بہترین مفاد ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے سما نیوز چینل کے پروگرام "لائیو ودھ ندیم ملک” میں گفتگو کرتے کیا ۔ اینکر پرسن ندیم ملک نے سوال اٹھا کہ اس سال کے آخر میں اگر نئی حکومت آتی ہے تو اس کو سب سے پہلے جو مسئلہ درپیش ہوگا وہ یہ کہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر آپ کیا کریں گے؟ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع یا تعینات کا طریقہ کار آئین میں درج ہے ہم اس کو فالو کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

عامر لیاقت حسین نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا

حکومت کے اتحادی”مائنس ایماندار وزیراعظم“کا فارمولا لے آئے

ان کا کہنا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ایسی صورتحال بناتا ہے تو اس کا ایک پروسیجر ہے وہ فیصلہ کریں گے جو ملک کے مفاد میں بہترین ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کریں جو ملک کو انارکی کی طرف لے کر جائے۔ ہم نے اس قوم کو اکٹھا کرنا ہے۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بہت شدید پلوشن پیدا کردی ہے۔ بہت زہر گھول دیا ہے اس معاشرے میں ، اس زہر کو صاف کرنا ہے ۔

میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ ماضی میں اسلام آباد اور پنڈی کے درمیان پل کر کردار ادا کیا ہے، میرے ہر آرمی چیف کے ساتھ بہترین تعلقات رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "شہباز شریف کا آرمی چیف کی تعیناتی یا ایکسٹینشن بارے بیان ان کی سیاسی بوکھلاہٹ  کو واضح کر رہا ہے۔جس کا فیصلہ سال کے آخر میں ہونا ہے اس ایشو کو اپنی گندی سیاست میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

شہباز گل نے مزید لکھا ہے کہ "شہباز صاحب آپ نے کیا فیصلہ کرنا اس وقت تک تو آپ جیل میں ہوں گے۔ شہباز نواز ایک سکے کے دو رخ ہیں۔”

متعلقہ تحاریر