پی ٹی آئی کی معاشی کامیابیاں، ٹیکسز اور ہدف سے زیادہ محصولات میں اضافہ
تحریک انصاف کے دور حکومت میں کاروبار آسان بنانے کے لیے سرمایہ کاری بورڈ، سیکوریٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور اوگرا اور نیپرا سمیت دیگر ریگولیٹرز کو متحرک کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے۔ ٹیکس کی بے جا چھوٹ اور مراعات یافتہ طبقات کے لیے ٹیکس کی مراعات کو کم کیا گیا۔ ٹیکس آمدن مالی سال 2022 کے اختتام تک 6100 ارب روپے تک پہنچانے کا امکان ہے۔ پہلے 8 ماہ میں ٹیکس آمدن 3800 ارب روپے رہی ہے اور یہ مقررہ ہدف سے 268 ارب روپے زیادہ ہے۔ ٹیکس آمدن بڑھ سے پرائمری بیلنس بہتر ہوا ہے اور 81 ارب روپے سرپلس ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے 2018 میں اقتدار سنبھالا تو پرائمری بیلنس معیشت کا 2.2 فیصد تھا۔
اسٹیٹ بینکوں سے قرضہ لینا بند کیا گیا
تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف سے تاریخ کا مشکل ترین پروگرام لیا۔ اس پروگرام میں معاشی نظم و ضبط کے لیے کٹھن فیصلے کرنے کا عزم کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرضے لینے کا سلسلہ بند کردیا۔ سال 2019 میں ہی اسٹیٹ بینک 1300 ارب روپے کا قرضہ کم لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
رواں مالی سال براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں6.1کا اضافہ ریکارڈ
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود
مہنگائی سے بچنے کے لیے پٹرول اور بجلی پر ریلیف پیکج
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے مقررہ ہدف سے جونہی 268 ارب روپے زیادہ ملے اور سرکاری اداروں میں پڑے حکومتی ڈیویڈنڈ کے 1300 ارب روپے میں سے 300 ارب روپے استعمال کرنے کی ٹھان لی گئی۔ 28 فروری 2022 کو وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں پٹرول اور بجلی پر ریلیف دینے کا اعلان کیا۔ پٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی میں بڑھنے کے باوجود برقرار رکھی گئیں۔ پٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی دینے کے لیے 110 ارب روپے مختص کیے گئے اور عالمی منڈی میں 134 ڈالر فی بیرل کی قیمت کے باوجود پاکستان میں ریلیف برقرار رکھا گیا۔
بجلی کے ریٹ میں 5 روپے فی یونٹ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس طرح 700 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی کے ریٹ 5 روپے یونٹ سستے کیے گئے۔ بجلی پر سبسڈی کی مد میں 136 ارب روپے مختص کیے گئے۔
اس ریلیف پیکج کے لیے فنڈز اس طرح سے اکٹھے کیے گئے کہ بجٹ پر بوجھ نہ پڑے اور بجٹ خسارے میں اضافہ نہ ہو۔ ایف بی آر کی زائد آمدنی، کورونا کے اخراجات میں کمی اور سرکاری اداروں کے ڈیویڈنڈ سے اس سبسسڈی کے لیے رقوم مختص کی گئیں۔
کاروبار کے لیے آسانیاں
تحریک انصاف کے دور حکومت میں کاروبار آسان بنانے کے لیے سرمایہ کاری بورڈ، سیکوریٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور اوگرا اور نیپرا سمیت دیگر ریگولیٹرز کو متحرک کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کاروبار کو آسان بنانے کے لیے ہر ماہ دو اعلیٰ سطح کے اجلاس بلائے اور مختلف سیکٹرز کی مشکلات آسان بنائیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق پاکستان میں 115 اصلاحات کی گئیں۔ ان اصلاحات میں 75 محکموں اور 31 شعبہ جات کی شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ عالمی سطح پر کاروبار آسان بنانے کے لیے پاکستان کا درجہ 147 سے بہتر ہوکر 108 پر آگیا۔ اب بورڈ آف انوسٹمٹنٹ آسان کاروبار پورٹل قائم کردیا گیا ہے۔ جس کا مقصد کاروبار حضرات کی براہ راست شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس، ایف اے ٹی ایف کے اہداف میں بڑی پیش رفت
تحریک انصاف کے دور حکومت میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں تک رقوم، روپے، ڈالر، ریال، درہم سمیت غیر ملکی کرنسی، جائیدادیں، مکان ، دکان اور زرعی اراضی، پرائز بانڈ، سونے اور ہیرے کے زیورات، قیمتی پتھر، قیمتیں دھاتیں اور بے نامی اثاثے روکنے کے لیے تاریخ ساز قانون سازی کی گئی۔ پا کستان نے ایف اے ٹی ایف کے 27 اہداف میں سے 26 پر مکمل عمل درآمد کیا۔ اقوام متحدہ کی ہدایات پر مختلف تنظمیوں کو کلعدم قرار دے کر پابندیاں لگائی ہیں۔ ان کے بینک اکاؤنٹ منجمند کیے گئے۔ کلعدم تنظیموں کے عہدیداروں کے خلاف کاررروائیاں کی گئیں۔
بڑی صنعتوں کی شرح نمو میں اضافہ
پاکستان کے صنعتی شعبہ میں بڑی صنعتوں کا حصہ 78 فیصد ہے اور رواں مالی سال بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح 7.5 فیصد رہی۔ گزشتہ مالی سال 2021 میں بڑی صنعتوں کی شرح نمو 14.85 فیصد رہی۔
پاکستان میں آٹو موبیل انڈسٹری میں ترقی کی شرح سب سے شاندار رہی اور گاڑیاں بنانے والی صنعتوں نے 35.7 فیصد ترقی کی ۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے 436 ارب روپے کا ریلیف
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے برآمدات میں اضافہ سے ٹی ای آر ایف کے تحت 436 ارب روپے کا ریلیف دیا۔ ٹمپرریری اکنامک ری فنانس فیسیلیٹی کے تحت برآمدی شعبہ کو سہولیات ملیں۔ درآمدات کے بڑھنے کی شرح تیز نہ ہوسکی۔
اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے ہرتوڑ کوششیں
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے۔ بارڈرز کو اسمگلنگ سے محفوظ بنانے کےلیے خصوصی اقدامات کیے۔ افغانستان کے لیے اسمگلنگ روکنے کی غرض سے ٹیمیں متحرک کی گئیں۔ ایسے افسران کو ماضی میں اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث تھے ان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ اس طرح مقامی صنعت کو فروغ کا موقع ملا۔
اوگرا کی خود مختاری میں اضافہ
تحریک انصاف کی حکومت نے تیل اور گیسس کی ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا کو خود مختار فیصلے کرنے کے لیے سالہاسال سے موخر ہوئی قانونی ترمیم کردی۔ اوگرا کو گیس کی قیمتوں کے لیے 40 دنوں کے ریٹ کے حساب سے گیس کی اوسط قیمت کے تعین کا اختیار دے دیا گیا۔ اس طرح گیس کی قیمتوں کا تعین بروقت ہوسکے گا اور گیس کے شعبے میں موجود 650 ارب روپے کے سرکلرڈیٹ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان میں گیس کے ہر صارف کو 8 ڈالر کی سبسڈی ملتی ہے جبکہ بھارت یہ سبسسڈی 6 اور بنگلہ دیش میں یہ سبسڈی 5 ڈالر ہے۔
سعودی آئل فیسلیٹی کا کامیاب حصول
تحریک انصاف کے دور حکومت میں سعودی عرب نے پاکستان کے لیے معاونت بڑھائی۔ کامیاب سفارت کاری کے ذریعے سعودی عرب کے شہزادے شاہ سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا اور انہوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ دنیا بھر میں پاکستان کے سفیر ہیں۔ اسی دوران سعودی عرب نے موخر ادائیگیوں پر تیل فراہم کرنے کی سہولت کا اعلان بھی کیا ۔ اس سہولت کے لیے 3 سال میں 1.2 ارب ڈالر کا تیل موخر ادائیگیوں پر حاصل کیا گیا۔









