میرا پاکستان میرا گھر کے لیے 7.4 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری
افتتاحی تقریب میں بینکوں کے سی ای اوز، فیصل آباد کی ممتاز شخصیات، نمایاں کاروباری افراد ، یونی ورسٹیوں کے وائس چانسلروں اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فیصل آباد میں منعقد ہونے والے پہلے "میرا پاکستان میرا گھر” میلے میں 7.4 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دے دی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے فیصل آباد میں منعقد ہونے والے پہلے میرا پاکستان میرا گھر میلے پر بھرپور ردعمل دکھاتے ہوئے بینکوں نے درخواست گذاروں سے 18 ارب روپے کی درخواستیں لاگ ان کیں۔
یہ بھی پڑھیے
لوٹا نہیں کہ کسی دوسری پارٹی میں چلا جاؤں، وزیر خزانہ شوکت ترین
ہم خواتین کو خودمختار بنانے پر کام کررہے ہیں، وفاقی وزیر خزانہ
19 تا 20 مارچ 2022 ء کے دوران منعقد ہونے والے دو روزہ میلے میں 30,000 سے زائد افراد نے میرا پاکستان میرا گھر اسکیم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور بینکوں کی ون ونڈو سہولت کے ذریعے قرضوں کے لیے درخواستیں دینے کے لیے شرکت کی۔ قبول کی جانے والے درخواستوں پر بینکوں نے تقریباً 7.4 ارب روپے کے قرضوں کی مشروط منظوری دی۔
میرا پاکستان میرا گھر کے میلے کی افتتاحی تقریب کے موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے اپنے کلیدی خطاب میں سامعین کو میرا پاکستان میرا گھر اسکیم کے سفر سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک، حکومت، این اے پی ایچ ڈی اے اور بینکوں کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں قرضوں کے لیے درخواستیں دینے والوں کی تعداد اور ان کی منظوریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ بینک ہفتہ وار 4.5 ارب روپے کی منظوری اور تقریباً 2.3 ارب روپے تقسیم کر رہے ہیں۔
میرا پاکستان میرا گھر اسکیم کے نتیجے میں سستے مکانات کے قرضوں کے لیے درخواستیں جو پندرہ مہینے پہلے تقریباً نہ ہونے کے برابر تھیں، اب وہ 357 ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں، جن میں سے 157 ارب روپے کی درخواستوں کی منظوری دی جا چکی ہے اور اب تک 56 ارب روپے کے قرضے تقسیم ہو چکے ہیں۔
افتتاحی تقریب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین جناب فیض اللہ کموہا اور وزیرمملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے بھی خطاب کیا۔ دونوں مقررین نے مکانات اور تعمیرات کے قرضوں، خصوصاً کم لاگت اور سستی ہاؤسنگ کو فروغ دینے پر حکومت کی خصوصی توجہ کو اجاگر کیا۔ میرا پاکستان میرا گھر اسکیم کے استفادہ کنندگان فکسڈ اور زراعانت یافتہ شرح پر قرضے حاصل کر رہے ہیں، کیونکہ حکومت نظرانداز شعبے کے لیے زراعانت فراہم کر رہی ہے۔ افتتاحی تقریب میں بینکوں کے سی ای اوز، فیصل آباد کی ممتاز شخصیات، نمایاں کاروباری افراد ، یونی ورسٹیوں کے وائس چانسلروں اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔
میلے میں 25 بینکوں اور 28 بلڈروں اور ڈویلپروں نے اسٹال لگائے تھے اور درخواستیں وصول کرنے ، ای سی آئی بی کلیئرنس کے بعد درخواستوں کی پروسیسنگ، قسط کی رقم کا حساب لگانے اور درخواست گزاروں کو مشروط منظوری کے کاغذات دینے کے انتظامات کیے تھے۔ شدید گرمی کے باوجود اسٹالوں پر دلچسپی لینے والے درخواست گزاروں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ بینکوں کے درمیان صحت مند مسابقت پیدا کرنے کے لیے پانچ زمروں میں ان کی کارکردگی کو جانچا گیا اور ان کی کاوشوں کا اعتراف کرنے کے لیے اس کا اعلان کیا گیا۔ اس مقابلے کے نتائج درج ذیل ہیں:
1: میزان بینک کو سب سے زیادہ جدت پسند اسٹال پر۔
2: میزان بینک کو درخواستوں کی سب سے زیادہ تعداد لاگ ان کرنے۔
3: بینک آف پنجاب اور نیشنل بینک آف پاکستان کو درخواست گذار کو پہلا مشروط منظوری نامہ دینے پر تیز ترین بینک قرار دیا گیا۔
4: الائیڈ بینک لمیٹڈ کو درخواست گزاروں کو سب سے زیادہ تعداد میں مشروط منظوری نامے دینے پر۔
5: بینک الحبیب کو دورہ کرنے والے افراد کے ووٹ سے بہترین معیار کی سروس کا حامل قرار دیا گیا۔
میلے کے دوران اسٹیٹ بینک کے سینئر حکام نے پیش رفت کی نگرانی کے لیے بینکوں اور ڈویلپروں کے اسٹالوں کا دورہ کیا۔ دلچسپی رکھنے والے درخواست گذاروں کی شکایات کو موقع پر نمٹایا گیا۔ بینکوں کے صدور اور علاقائی سربراہان سمیت سینئر حکام اس موقع پرموجود تھے اور انہوں نے درخواست گزاروں کو رہنمائی فراہم کی۔ یہ تمام سرگرمیاں میلے کے بنیادی مقصد سے ہم آہنگ تھیں جنہیں گورنر اسٹیٹ بینک نے اپنے افتتاحی خطاب میں اجاگر کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کو دیکھنا چاہیے اور وہ یہ یقین کریں کہ انہیں میرا پاکستان میرا گھر جیسی نمائندہ اسکیم کے قرضے مل رہے ہیں۔









