تحریک انصاف کے دور حکومت کی بڑی معاشی کامیابیاں، قسط سوم
تعمیراتی شعبے کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت سیکشن 111 کی چھوٹ دی گئی اور آمدن کے ذرائع ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں تعمیراتی شعبہ کے لیے خصوصی پیکج دیا گیا۔ اس پیکج میں 2125 پراجیکٹ شامل ہوئے اور مجموعی طور پر 493 ارب روپے کا سرمایہ تعمیراتی شعبے میں لگا۔
نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 30 ارب روپے مختص کیے گئے۔
نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے تحت ملک بھر میں غریب اور متوسط طبقے کو اپنے گھر کے خواب کی حقیقت فراہم کی گئی۔ اس طرح غریب اور متوسط طبقے کو مکان اور فلیٹ کے مالک بن سکیں گے اور ان کی کرائے کے اخراجات کی بچت سے قرضوں کی واپسی ممکن ہوسکے گی۔
تعمیراتی شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا گیا۔
تعمیراتی شعبے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی فکسڈ ٹیکس کی سہولت دی گئی۔ فسکڈ ٹیکس کے ذریعے رہائشی اور کمرشل پراجیٹ دونوں شامل کیا گیا۔ اس طرح رہائشی اور کمرشل پراجیکٹ کی لاگت میں ٹیکسوں کے ہر مرحلے پر اضافے سے بچا جاسکے اور فکسڈ ٹیکس فی مربع فٹ یا فی مربع گز پر لاگو کیا جائے گا۔ اس طرح بلڈرز کے لیے کیش فلو کے مسائل کم ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
رمضان سے قبل مہنگائی کا طوفان، ایک ہفتے میں گھی 55 روپے مہنگا
میرا پاکستان میرا گھر کے لیے 7.4 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری
تعمیراتی شعبے کے لیے شہری علاقوں میں صوبائی اور میونسپل ٹیکسز اور ڈیوٹیز کو 2 فیصد کے حساب سے یکجا کیا گیا۔ اس طرح تعمیراتی شعبہ کے سرمایہ کاروں اور بلڈرز کو دہرے اور تہرے ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے بچایا گیا اور مختلف دفاتر کے چکر لگانے کی زحمت نہ اٹھانا پڑے گی۔
تعمیراتی شعبے کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت سیکشن 111 کی چھوٹ دی گئی اور آمدن کے ذرائع ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں۔
تعمیراتی شعبہ کے لیے شرح سود کو کم سے کم کیا گیا۔ اس طرح مالی سال 2022 میں مکانات کی تعمیر اور خریداری کے لیے اس کی شرح مزید کم ہوجائے گی۔
مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے پہلی سیمنٹ کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ کرکے قیمتیں طے کرنے اور صارفین کے لیے مقابلے کے فضا متاثر کرنے کے خلاف انکوائری کی۔ اس انکوائری کو عوام کے لیے منظرعام پر لایا گیا۔ اس طرح سیمنٹ کی قیمتوں میں مقابلے کی رجحان آیا ۔
تعمیراتی شعبے کے لیے مراعات :
تحریک انصاف کی حکومت میں سیمنٹ کی بور ی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 100 روپے کم کرکے 75 روپے کیا گیا۔
تحریک انصاف کے دور حکومت میں مالی سال 2021 میں سیمنٹ کی پیداوار میں اضافہ ہوا ۔
48 ملین ٹن سیمنٹ مقامی طور پر استعمال ہوا جبکہ 9 ملین ٹن سیمنٹ ایکسپورٹ ہوا۔
سیمنٹ کے شعبے میں ترقی کی شرح 20 فی صد رہی ۔اورمقامی طور پر اس کے استعمال میں 82 فی صد اضافہ ہوا ۔
تحریک انصاف کے دور میں حکومت نے 5 سال میں 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا ابتدائی ہدف مقرر کیا ۔اس طرح ہر سال 5لاکھ گھر بنا کر 2 ہزار ارب روپے کے وسائل اس شعبے کے لیے مقرر کیے گیے ۔
ہر سال پانچ لاکھ گھر بنانے کے لیے 10 ملین ٹن سیمنٹ اضافی ضرورت پیدا ہوئی ۔
سنگل سٹوری گھر بنانے کے لیے 20 ٹن سیمنٹ کی اضافی پیداوار کی ضرورت پڑی ۔
1 ٹن سریے کی اضافی ڈیمانڈ پیدا ہوئی ۔اس طرح 5 لاکھ گھر سالانہ بنانے کے لیے سریے کی 15 لاکھ ٹن ہوئی ۔
ملک میں تعمیراتی سامان کی طلب میں اضافہ بڑے سی پیک منصوبوں جیسے کشمیر ہائیڈرو،ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے ،دیامیربھاشا ڈیم ،راوی ریورسٹی پراجیکٹ ،اور دیگر میگا پراجیکٹ کے علاوہ ہے ۔
تعمیراتی شعبے کے زریعے 5لاکھ گھر سالانہ اور بڑے میگا پراجیکٹس کی تعمیر سے معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوسکی ۔روزگار کے مواقع میسر آسکے اور اس شعبے سے وابستہ تمام صنعتوں کو فروغ ملا۔
تحریک انصاف کے دور میں چھوٹی صنعتوں کے لیے سپورٹ پیکج لایا گیا ۔ اس طرح چھوٹے سٹیل کے کارخانوں کے لیے پیداواری لاگت کم ہوئی اور اس کا براہ راست فائدہ تعمیراتی شعبے کو حاصل ہوا ۔
زراعت اور لائیو سٹاک شعبے کی بہتری :
کسی بھی ملک کی زرعی ترقی کا اندازہ وہاں کھاد کی فروخت سے لگایا جاسکتاہے ۔ سال 2021 میں پاکستان میں یوریا کی فروخت 63 لاکھ ٹن رہی جو سال 2009 کے بعد سب سے زیادہ تھی ۔ اسی طرح اس دوران ڈی اے پی کھاد کی فروخت 13لاکھ ٹن رہی ۔ کھادوں کے بہتر استعمال سےگندم کی پیداوار 27 اعشاریہ 3 ملین ٹن رہی ۔چاول کی پیداوار 84 لاکھ ٹن تک پہنچی اور مکئی کی پیداوار 85 لاکھ ٹن تک جا پہنچی ۔
تحریک انصاف کی حکومت نے کاشتکاروں کے ریلیف کے لیے گندم کی سپورٹ پروگرام 1800 سے بڑھا کر 2200 روپے فی من کر دی ۔چاول کی سپورٹ پرائس بھی 2200 روپے من تک رکھی گئی۔اس طرح دیہی علاقوں کی 60 فی صد آبادی کو فائدہ ہوا اور ان کے لیے آمدن میں اضافہ کیا گیا ۔
سپورٹ پرائس بڑھنے سے کچھ تنقیدنگار اسے مہنگائی میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہیں ۔لیکن اگر اس کا بین الاقوامی قیمتوں سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں بہتر پیداوار کی وجہ سے قیمتوں میں استحکام آیا او رمہنگی غیر ملکی اجناس کو درآمدکرنے کی ضرورت نہیں پڑی ۔
عالمی سطح پر کھانے پینے کی اشیا میں 43 فی صد سے 140 فی صد تک اضافہ ہوا ۔
عالمی مارکیٹ میں پام آئل کی قیمت میں 232 فی صد تک اضافہ ہوا اور یہ 1660 ڈالر فی ٹن تک جا پہنچی ۔چینی کی قیمت میں عالمی سطح پر 87 فی صد اضافہ ہوا ۔عالمی سطح پر گندم 109 فی صد اور کپاس 117 فی صد مہنگی ہوئی ۔
عالمی سطح کے برعکس پاکستان میں مقامی طور پر گندم کی گندم کی قیمت میں 28 فی صد ، چینی کی قیمت میں 8 فی صد اضافہ ہوا ۔اور بہتر مقامی پیداوار نے صارفین کو عالمی سطح کی مہنگائی سے محفوظ رکھا۔
سال 2008سے 2018 تک گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں گندم کی قیمت میں 170 فی صد اور چینی کی قیمت میں 92 فی صد اضافہ ہوا ۔
حکومت نے زرعی شعبے کے لیے ایک اور اہم اقدام کیا ۔اور کھاد کارخانوں کے لیے جی آئی ڈی سی ، گیس انفراسٹکچرڈویلپمنٹ سیس کو 1600 سے کم کر کے 400 روپے فی بوری کر دیا ۔اس طرح کھاد کارخانوں کو 417 ارب روپے کا فائدہ ہوا ۔اور زرعی شعبے کے لیے سستی کھادیں میسر ہو سکیں ۔
تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس کی حکومت پنجاب نے کسان کارڈ لانچ کیا ۔جس کے تحت کسانوں کو قرضے اور سبسڈی فراہم کی گئی ۔آن لائن طریقہ کار کے زریعے اسے شفاف بنایا گیا ۔
تحریک انصاف کے دور حکومت میں زراعت کے ساتھ ساتھ لائیو اسٹاک کے شعبے میں بھی ترقی ہوئی ۔ملک میں گائے اور بیلوں کی تعدا اضافے کے بعد 4 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اسی طرھ بھینیوں کی تعداد 3 کروڑ 37 لاکھ تک پہنچی۔جو دودھ کی پیداوار 20 ارب لیٹر سے 34 ارب لیٹر تک پہنچنے کا سبب بنی ۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق پاکستان میں دودھ کو محفوظ بنانے اور کولڈ سٹوریج کی سہولیات کی کمی ہے ۔جو 15 سے 20 فی صددودھ ضائع ہونے کاسبب بنتاہے ۔
حکومت متعلقین کے ساتھ مشاورت کے زریعے دودھ کے ضائع ہونے شرح کو کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے ۔اور ضروری انفراسٹرکچر کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے ۔









