جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا

جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی نے کہا کہ ہم آج فیڈرل گورنمنٹ کی کابینہ سے استعفیٰ دیتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ایک اور جھٹکا ، جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی نے وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آج سے پی ڈی ایم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

شاہ زین بگٹی نے اسلام آباد میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ آج سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی وزیر داخلہ نے بلاول بھٹو زرداری کو آخری وارننگ دے دی

زین شاہ بگٹی نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے پی ٹی آئی کی حکومت سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے ہے ، اب ہم اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا کہ جس طرح وزیراعظم عمران خان ، اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنا رہے جس طرح کی زبان استعمال کررہے ہیں ، میرا خیال ہے انہیں سیاسی طور پر ایسی گفتگو نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ ایسی گفتگو اخلاقیات سے باہر ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا ہم ان کے ساتھ ساڑھے تین سال کا عرصہ چلے ، ہم نے بہت کوشش کی کہ کچھ بہتری آسکے ، بارہا ان کے پاس گئے ہمیں جو مینڈیٹ دیا گیا تھا کہ بلوچستان میں صورتحال کو بہتر کیجئے ، بلوچستان میں امن کو بحال کیجیئے ، جب سے ہم کو ذمہ داری دی گئی تھی ہم نے بہت کوشش کی کہ بلوچستان میں امن آئے۔ گورنمنٹ اپنی طرف سے کچھ ڈیلیور نہیں کرسکی ہے۔ ہم نے لوگوں کو راضی رکھنے کی بہت کوشش کی ۔

شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک ہفتہ قبل گورنمنٹ کو بتایا کہ 2 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ مہاجرین ہیں ، جو 2005 سے لے کر آج کے دن تک بےیارو مدد گار ہیں، ہم نے حکومت سے مسنگ پرسن کے ایشو پر بات کی ، کہا گیا تھا کہ بہت جلد مسنگ پرسنز کے حوالے سے بہت جلد خوش خبری دیں گے ، اور جو لوگ لاپتا ہیں وہ اپنے گھروں کو جو سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ بلوچستان میں امن و امان بہتر ہوگا۔ ہمیں صوبائی گورنمنٹ نے بھی دلاسہ دیا تھا ، ہم نے اپنے اینڈ  پر بھی بہت کام کیا۔

شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا کہ نواب اکبر بگٹی کا بلوچستان میں ایک نام ہے ، ہمیں لوگوں کے انکے نام پر ووٹ دیا ، مگر لوگوں کے اعتماد کو بہت زیادہ ٹھیس پہنچی ہے۔ ہم آج بلاول بھٹو صاحب سے ملاقات کی اور اس بات کا فیصلہ کیا ہم بلاول بھٹو کو خوش آمدید کہیں گے۔

جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی نے کہا کہ ہم آج فیڈرل گورنمنٹ کی کابینہ سے استعفیٰ دیتے ہیں۔ وزیراعظم کی کابینہ کو چھوڑنے کا اعلان کرتے ہیں، ہم پاکستان اور پاکستانی قوم کے لیے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ساتھ ہیں۔ جو کچھ بہتر کرسکیں گے پی ڈی ایم کے ساتھ ملکر کریں گے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت ایک دوہرے کھڑا ہے ، پاکستان کا ، جمہوریت کا ، معیشت کا ، اور صوبوں کے حقوق کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں ، پاکستان کے عوام پارلیمان کی طرف دیکھ رہے ہیں ، اس مشکل سے ہم کیسے نکلیں گے ، ایسے موقع پر شاہ زین بگٹی کا اعلان اندھیرے میں روشنی کی نوید ہے ۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا ہم شاہ زین بگٹی کے فیصلے کو سراہتے ہیں اور انہیں اپوزیشن میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ بگٹی صاحب نے وقت پر دلیرانہ فیصلہ کیا ہے ۔ گذشتہ تین سالوں میں بگٹی صاحب نے اور دوسرے بہت سوں نے جو کردار ادا اپنی عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے وہ قابل قدر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ شاہ زین بگٹی اور دیگر نمائندوں نے اپنے مسائل کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ چلنے کی بہت کوشش کی ، مگر وزیراعظم صاحب اور ان کی حکومت کا جو سلوک اپوزیشن کے ساتھ وہی سلوک ان کا اپنے اتحادیوں کے ساتھ تھا۔ عوام اور اتحادیوں کو عمران خان کی جانب سے دھوکہ ملا۔ عمران خان نے اپنے فائدے کے لیے اپنے اتحادیوں کو استعمال کیا۔

متعلقہ تحاریر