وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع
وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی رانا مشہود خان اور سمیع اللہ خان سیمت دیگر جمع کرائی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی گئی ، تحریک عدم اعتماد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرادی گئی ہے۔ تحریک عدم اعتماد مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی رانا مشہور ، سمیع اللہ خان اور دیگر نے جمع کرائی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بلاول کی وزیراعظم کو بشریٰ بی بی کی کرپشن بے نقاب کرنے کی دھمکی
مریم نواز کا پہلی مرتبہ پی ٹی آئی حکومت پر 6 ارب کی کرپشن کا الزام
پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن اراکین اسمبلی کے دستخط موجود ہیں۔

تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی چودہ دن کے اندر اجلاس بلانے کے پابند ہوں گے۔
آئین کے مطابق تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد وزیراعلیٰ اسمبلی تحلیل کرنے کے مجاز نہیں رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک پر مسلم لیگ ن کے 122 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے 6 ارکان کے دستخط موجود ہیں۔
اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ ایوان میں اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں۔
جمع کرائی گئی تحریک میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی جمہوری روایات کے خلاف ہیں، پنجاب کے معاملات آئین کے مطابق نہیں چلائے جارہے ہیں۔
8 مارچ کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی تھی جس کے بعد یہ سوچا جارہا تھا کہ پنجاب میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جاسکتی ہے، گذشتہ رات مسلم لیگ ن اور ق لیگ کے درمیان بہت اہم میٹنگ ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے ق لیگ کی قیادت کی مسلم لیگ ن کی قیادت ، بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری سے ملاقاتیں ہوئی تھیں جس میں یہ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ اس لیے بھی کیا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اسمبلی تحلیل نہ کرسکیں، اس لیے آج فوری طور پر تحریک جمع کرائی گئی ہے جس پر سو سے زیادہ ارکان کے دستخط موجود ہیں۔









