تحریک انصاف کے دور حکومت کی بڑی معاشی کامیابیاں، قسط چہارم

پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دور حکومت میں چار ایکس چینج آف ٹریڈنگ فنڈز قائم کیے ہیں۔ اس طرح سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع میسر آئے۔

تحریک انصاف کی حکومت معاشی میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا تاریخ ساز اجرا کیا۔ اس اکاؤنٹ کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کو براہ راست سرمایہ کاری کا موقع میسر آیا اور ان کی ترسیلات زر کو قانونی راستے سے پاکستان بھجوانے میں معاونت ملی۔ اسی لیے جیسے ہی ستمبر 2021 میں وزیر اعظم عمران خان نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کا آغاز کیا پہلے ہی 6 ماہ میں ان میں سرمایہ کاری کا حجم 3.6 ارب ڈالر تک جاپہنچا۔

کیپٹل مارکیٹ میں بہتری کے لیے اقدامات:

تحریک انصاف کی حکومت نے انکم ٹیکس کے گوشوارے جمع کرانے والے فائلرز کے لیے  کیپٹل گین ٹیکس میں رعایتی شرح کا آغاز کیا۔   فائلرز کے لیے کیپٹل کی شرح  15 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم، شوگر سیکٹر سے 33 فیصد اضافی وصولی

مہنگائی کا نیا طوفان، زندہ مرغی 300 روپے فی کلو سے تجاوزکر گئی

قومی بچت کی اسکیموں میں کارپورٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری کو محدود کردیا گیا۔ اس فیصلے سے ملک میں کارپوریٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری قومی بچت کی بجائے مختلف شعبہ جات اور صنعتوں کے فروغ کے لیے استعمال ہوئی۔

تحریک انصاف کی حکومت نے سال  2020 میں اسٹاک مارکیٹ میں سرکٹ بریکرز کا ایک طریقہ کار پیش کیا۔

کیپٹل مارکیٹ میں چھوٹے سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے سرکٹ بریکرز کو مزید موثر کیا گیا اور اس کی طرح جو پہلے  5 فیصد پر تھی اسے بڑھا کر  7.5 فیصد کیا گیا  ہے۔   سرکٹ بریکرز کا مقصد اسٹاک مارکیٹ میں  کسی بھی  شیئر کے  لین دین  میں  غیر معمولی اتار چڑھاؤ آئے  تو اسے عارضی طور پر  روک دیا جائے اور  سرمایہ کاروں کو اپنے فیصلوں میں سنبھلنے کا موقع مل جائے ۔ اس طرح 30 منٹ کےوقفے سے دوبارہ اس شیئر کا لین دین ہوسکتا ہے اور اس آدھے گھنٹے میں کسی شیئر کے بارے میں اگر کوئی غلط معلومات  ہیں یا معلومات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہو تو اس کی تصدیق یا تردید کی جاسکے ۔  کورونا کے دوران اس سرکٹ بریکر نے چھوٹے سرمایہ کاروں کو  تحفظ فراہم کیا۔

تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دور حکومت میں چار ایکس چینج آف ٹریڈنگ فنڈز قائم کیے ہیں۔ اس طرح سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع میسر آئے۔

تحریک انصاف کے دور حکومت میں سکیوریٹیز بروکریجزکے لائسنس میں مزید اصلاحات لائی گئیں۔   اس سلسلے میں   لائسنس کے اجرا کے لیے ریگولیشن کو مزید سہل بنایا گیا۔   اس میں تین کیٹگریز  کا اجرا کیا گیا۔  اس فیصلے سے چھوٹے چھوٹے خود ساختہ بروکرز کا خاتمہ ہوا  جو  لوگوں سے  براہ راست سرمایہ  حاصل کرکے اسٹاک مارکیٹ میں لگا رہے تھے اور ان کے  دیوالیہ ہونے کے واقعات بھی ہوئے۔   اس طرح سرمایہ کار کا اکاؤنٹ اب سی ڈی سی میں ہی کھولا جائے گا اور  کے سرمایہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہوسکے گا۔

تحریک انصاف کی حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اہداف پورے کرنے کےلیے انسداد منی لانڈرنگ کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے۔   سیکوریٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستا ن نے  ایف اے ٹی ایف کے اہداف بروقت حاصل کیے۔  ملک بھر سے بے نامی شیئرز ہولڈرز اور بے نامی   بینی فیشل او نر  کا خاتمہ کیا گیا۔    ملک بھر میں  وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر  امدادی اداروں کی رجسٹریشن کا میکانزم بہتر ہوا۔

تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں اسٹاک مارکیٹ میں بہتری کی بنیاد فراہم کی گئی۔  اسٹاک مارکیٹ کی بہتری کے لیے فنڈامیٹلرز کو مستحکم بنایا گیا۔  اسی لیے ایک دن میں 2 ار ب  روپے سے زیادہ کے والیم کی تجارت ہوتی ہوئی ریکارڈ کی گئی۔

توانائی  کے شعبے کی بہتری:

تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں   توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کو کم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔   سرکلر ڈیٹ میں کمی کے لیے وفاقی حکومت نے  نجی بجلی گھروں کے  225 ارب  روپے کے واجبات کا آڈٹ کیا۔   اس طرح   نومبر  2021 میں  نجی بجلی گھروں کے  40  فی صد  حسابات کی جانچ پڑتال کی تصدیق کی گئی اور  نومبر  2020 تک  130 ارب روپے کے واجبات ادا کردیئے گئے۔  واجبات کی ادائیگی سے توانائی کے شعبے میں فنڈز دستیاب ہوسکے اور  توانائی کے شعبے میں  زر کی گردش بہتر ہونے سے  مجموعی طور پر  واجبات کا حجم کم ہوا۔

تحریک انصاف کی کی حکومت  سال  1994 سے سال  2002 تک نجی بجلی گھروں سے بجلی خریدنے کی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا۔  اس طرح یہ طے پایا کہ نجی بجلی گھروں کی پیداواری صلاحیت کے لیے  واجبات  11 فی صد کی شرح سے کم ہوں گے۔  اس دوران یہ بھی طے پایا کہ   ان کے سرمائے پر  ایکویٹی کی شرح  17 فیصد  ہوگی اور حکومت ڈالر کے 145 روپے کے ریٹ کے حساب سے  اس کا تعین کرے گی اور جتنی بجلی استعمال کرے گی اتنی ہی ادائیگی کرے گا۔

توانائی کے شعبہ میں  800 ارب روپے کی بچت:

تحریک انصاف کی حکومت نے  نجی بجلی گھروں کے لیے سال  1990 سے  سال  2013 تک  دی گئی رعایتی کا ازسرنو جائزہ لیا۔  اس دوران یہ طے پایا کہ  وفاقی حکومت نجی بجلی گھروں  کی موجود صلاحیت اور گنجائش کے حساب سے  بجلی کی خریداری کے معاہدے  پر اب مزید نہیں چلے گی ۔  اس طرح آیندہ  30 سا ل میں  کیپی سٹی پے منٹس کی مد میں 800 ارب روپے کی ادائیگیوں سے جان چھوٹ جائے گی۔

سی پیک کے تحت  کوئلے کے بجلی گھروں کی کامیاب پیداوار:

تحریک انصاف کی حکومت نے  سی پیک کے تحت کوئلے سے چلنے والے  چار بجلی گھروں    کی کامیاب پیداوار حاصل کی گئی۔   1320 میگا واٹ کے  ساہیوال کول پاور پراجیکٹ۔  1320 میگا واٹ کے پورٹ قاسم کول پاور پراجیکٹ۔  1320 میگا واٹ کے حب کول پاور پراجیکٹ اور 660  میگا واٹ  کے تھر  اینگروکول پاور پراجیکٹس سے کامیاب پیداوار حاصل کی گئی۔  اس سے سلسلے میں  مزید 5 بجلی کے منصوبوں پر بھی کام کی رفتار بھرپور انداز سے جاری ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے  صنعتوں سے منسلک گیس سے چلنے والی چھوٹے بجلی گھروں  کو چار ماہ کے لیے  گیس کی فراہمی بند کی ۔  اس فیصلے سے  گیس کو براہ راست صنعتوں تک فراہم کیا گیا۔  25 سے  50 فی صد کے  رعایتی نرخ پر صنعتوں  کے لیےگیس  فراہم ہونے سے پیداواری لاگت کم ہوئی اور صنعتی پہیے کی رفتار بہتر ہوئی، روزگار کے موقع بڑھے اور  چھوٹے کارخانوں کو فائد ہوا۔

تحریک انصاف کے دور حکومت میں توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات پر توجہ دی گئی۔  ماضی میں  اس  طرح کی اصلاحات کو نظر انداز کیا گیا  تھا۔  اس فیصلے سے توانائی کے شعبے میں  نقصانات کی شرح کم ہوئی۔  حکومتی سرمائے کی بچت ہوئی اور  توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ  کا بڑھنے کی رفتارمیں بھی کمی ہوئی۔

 وزیر اعظم  عمران خان  نے کراچی کے عوام سے وعدہ کیا کہ  رمضان میں  کراچی میں لوڈشیدنگ نہیں ہوگی اور  13 سا ل کے بعد   تحریک انصاف کے دور حکومت نے کراچی کے عوام نے  لوڈشیڈنگ کے بغیر  رمضان کا مہینہ دیکھا۔

متعلقہ تحاریر