مستقبل میں گرین انرجی کا استعمال بڑھے گا، شہاب قادر

اینگرو انرجی کی طرف سے پاکستان انرجی سمپوزیم منعقد کیا جائے گا، توانائی اور کارپوریٹ سیکٹر کے ماہرین خطاب کریں گے۔

یکم اپریل کو اینگرو انرجی لمیٹڈ کی جانب سے کراچی کے مقامی ہوٹل میں پاکستان انرجی سمپوزیم منعقد کیا جائے گا۔ سمپوزیم کا موضوع ”توانائی کے مستقبل کا آغاز“ ہے۔

اینگرو انرجی لمیٹڈ (ای ای ایل) کے اس سمپوزیم کا مقصد مارکیٹ اصلاحات کے مواقع اور چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ متعلقہ شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے تاکہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے پر غور کیا جاسکے۔

اینگرو انرجی میں بزنس ڈویلپمنٹ کے نائب صدر شہاب قادر نے سمپوزیم کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مستقبل میں گرین انرجی کا استعمال بڑھنے والا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گرین انرجی کے استعمال سے صارفین کو انتخاب کا موقع میسر آئے گا، بجلی کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوگا اور خطرات کو کم کرنے کے ساتھ بجلی کی منصفانہ تقسیم کے لیے حالات پیدا ہوں گے۔

سمپوزیم میں اس منتقلی کے حوالے سے ریگولیٹری اور تجارتی پہلوؤں پر بات چیت کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ فریم ورک کی منظوری اور مسابقتی تجارتی دو طرفہ کنٹریکٹس مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) پر عمل درآمد کی قابل ذکر پیش رفت کے تسلسل میں ہم نیپرا کی مارکیٹ کو آزاد کرنے کے اقدامات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

سمپوزیم کو حکومت سندھ، نیپرا، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) اور کارپوریٹ پاکستان گروپ (سی پی جی) کا تعاون حاصل ہے۔

وزیر مملکت اور چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ محمد اظفر احسن، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور، چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی، رکن توانائی بورڈ وقاص بن نجیب سمپوزیم سے خطاب کریں گے۔

سندھ کے صوبائی وزیر برائے توانائی امتیاز احمد شیخ، صدر او آئی سی سی آئی غیاث خان، چیئرپرسن پاکستان اسٹاک ایکسچینج ڈاکٹر شمشاد اختر، چیئرمین پاکستان بزنس کونسل محمد اورنگزیب بھی خطاب کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔

دیگر مقررین میں چیئرمین پالیسی ایڈوائزری بورڈ یونس ڈھاگا، منیجنگ ڈائریکٹر متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ شاہ جہاں مرزا اور سی ای او کے الیکٹرک مونس عبداللہ علوی شامل ہیں۔

سی ای او اینگرو انرجی لمیٹڈ احسن ظفر سید، ممبر پالیسی بورڈ ایس ای سی پی سید اسد علی شاہ اور توانائی و کارپوریٹ سیکٹر کے دیگر قابل ذکر ماہرین سمپوزیم کے مختلف سیشنز کے دوران اظہار خیال کریں گے۔

متعلقہ تحاریر