توہین مذہب کا الزام، تین خواتین نے معلمہ کو قتل کردیا

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان نے بتایا کہ ان کی رشتےدار بچی کو خواب میں منکشف ہوا کہ معلمہ نے گستاخی کی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے گنجان آباد علاقہ انجم آباد میں تین خواتین نے اسلامی مدرسہ کی معلمہ سیفورہ بی بی کو تیز دھار آلے سے ذبح کر ڈالا، پولیس نے تین مبینہ قاتل خواتین کو گرفتار کر لیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ میں مدرسے کی یونیفارم پہنی تین خواتین مدرسہ فلاح البنات کے دروازے کے باہر معلمہ کا انتظار کر رہی تھیں۔

جیسے ہی معلمہ سیفورہ بی بی رکشہ سے اتریں تو تینوں خواتین رضیہ حنیفہ، عاٸشہ لقمان اورعمرہ امان نے معلمہ پر مبینہ طور پر حملہ کر دیا۔

تینوں خواتین ملزمان نے تیز دھار ألے سے سیفورہ بی بی کے گلے پر چھری پھیر دی۔

معلمہ سیفورہ بی بی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی، پولیس نے تینوں خواتین کو گرفتار کرلیا ہے۔

صحافی روحان احمد نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان نے مقتولہ پر توہین مذہب کا الزام لگا کر حملہ کیا تھا۔

پولیس کے مطابق ایک ملزمہ نے بتایا کہ اس کی 13 سالہ رشتےدار بچی کو خواب میں منکشف ہوا کہ معلمہ سیفورہ نے گستاخی کی ہے۔

مقتولہ کے چچا کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تفشیش شروع کر دی گئی ہے۔

متعلقہ تحاریر