وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی روسی ہم منصب سے ملاقات

اُمور خارجہ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور حکومت کسی قسم کا بیرونی دباؤ قبول نہیں کر رہی، خارجہ پالیسی مکمل آزاد ہے۔

روس کی وزارت خارجہ کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک تصویر شیئر کی گئی ہے جس میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نہایت خوشگوار انداز میں مصافحہ کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ ملاقات چین کے شہر تنشی میں ہوئی جہاں چین نے افغانستان کی داخلی صورتحال پر ایک اہم اجلاس کا انعقاد کیا ہے۔

گزشتہ روز شاہ محمود قریشی کی افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ محمد متقی اور چینی وزیر خارجہ سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔

چین کی میزبانی میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ اسی فورم کو استعمال کرتے ہوئے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں۔

امور خارجہ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف وزیراعظم عمران خان اپنے خلاف لکھے گئے خط کا ذکر کر رہے ہیں جس سے ملک میں ایک سراسیمگی سے پھیلی ہوئی ہے۔

دوسری طرف ملک کے وزیر خارجہ اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اس سے قبل بھی وزیراعظم عمران خان روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی دعوت پر روس گئے تھے، عین اس دن روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور حکومت کسی قسم کا بیرونی دباؤ قبول نہیں کر رہی۔

حکومت کو ایک ماہ قبل اس وقت شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا جب وزیراعظم روس کے سرکاری دورے پر تھے۔

فی الوقت وزیراعظم کو لکھے گئے مبینہ خط پر قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس جاری ہے جس میں عمران خان وہ خط کمیٹی کے سامنے رکھیں گے۔

متعلقہ تحاریر