مسلم لیگ (ن) کی ایم کیو ایم کو نئے انتظامی یونٹس پر حمایت کی یقین دہانی

حکومتی اتحادی ایم کیو ایم نے مسلم لیگ (ن) سے ہونیوالے معاہدے کے بعد حکومت کا ساتھ چھوڑا، نئے انتظامی یونٹس پر پیپلزپارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جاچکی ہے، ایسے میں ملکی سیاست میں خوب اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

حکومتی اتحاد میں شامل کئی جماعتیں حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کا ساتھ دینے کے اعلانات کر چکی ہیں۔

پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) سے شروع ہونے والے حکومت مخالف اتحاد میں اب ایم کیو ایم پاکستان اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) بھی شامل ہوچکی ہیں۔

اس سیاسی افراتفری میں آئندہ کے پارلیمانی اور سیاسی معاملات کی بہتری کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے اپوزیشن کے ساتھ تحریری معاہدے کیے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان پچھلے دنوں تک حکومت کی اتحادی تھی لیکن اب وہ اپوزیشن کے ساتھ شامل ہوگئی۔

اس اہم سیاسی پیشرفت کے پیچھے دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہے جس میں ایک شق شامل ہے کہ ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کو تسلیم کیا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر ملک میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے ٹائم فریم بھی طے کیا جائے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ شق نہایت اہم ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مستقبل میں ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں کو الگ صوبہ بنانے کے حوالے سے مطالبہ کیا جاتا ہے تو مسلم لیگ (ن) اس کی حمایت کرے گی۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نیا صوبہ ایم کیو ایم کا سب سے دیرینہ مطالبہ ہے اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپوزیشن اتحاد میں شامل ہونے کی وجہ بھی یہی معاہدہ بنا ہے۔

دوسری طرف ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کے ساتھ بھی معاہدہ کیا ہے جس میں سندھ اور کراچی سے متعلق اہم معاملات شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بہت دلچسپ صورتحال ہے کہ ایک طرف ایم کیو ایم نے مسلم لیگ (ن) سے معاہدہ کیا کہ نئے انتظامی یونٹ میں ان کی حمایت کی جائے۔

دوسری طرف ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی سے بھی معاہدہ کرلیا، تجزیہ کاروں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ایم کیو ایم کے ساتھ سیاسی اتحاد کر کے پیپلزپارٹی کی پیٹھ میں چُھرا گھونپا ہے۔

یہ بات مسلم لیگ (ن) اچھی طرح جانتی ہے کہ سندھ میں نئے انتظامی یونٹس یا جنوبی سندھ صوبہ بنانے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی یقین دہانی کروانے کی پوزیشن میں وہ نہیں بلکہ پیپلزپارٹی ہے۔

پیپلزپارٹی برسوں سے سندھ کی حکمران جماعت رہی ہے اور مسلم لیگ کو ایم کیو ایم سے ایسا معاہدہ کرتے وقت پیپلزپارٹی سے ضرور مشاورت کرنی چاہیے تھی۔

متعلقہ تحاریر