قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، غیرملکی مراسلہ پر جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس، کمیٹی اراکین نے مراسلے کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔

قومی سلامتی کمیٹی نے غیر ملکی مراسلہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ کرلیا۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ غیرملکی مراسلہ پاکستان کے اندورنی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے۔

پاکستان کے اندورنی معاملات میں مداخلت کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خفیہ خط میں دھمکی دینے والے ملک سے سفارتی آداب مدنظر رکھتے ہوئے سخت احتجاج کیا جائے گا۔

اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی مشیر معید یوسف نے کمیٹی کو خط پر بریفنگ دی جس پر کمیٹی نے خط پر تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی اراکین نے پاکستان کے اندورنی معاملات پر مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دیا جبکہ حکومت نے خط کا بھرپور جواب دینے کا بھی فیصلہ کیا۔

اجلاس کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق خط میں استعمال کئے جانے والے الفاظ سفارتی آداب کے خلاف ہیں لیکن اس کا جواب سفارتی آداب کو مدنظر رکھ کر دیا جائے گا۔

اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کو غیر ملکی اعلیٰ عہدیدار اور پاکستانی سفیر کے درمیان ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا گیا۔

کمیٹی نے کہا کہ غیر ملکی سفارتکار کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان غیر سفارتی تھی۔

اس اہم اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان، قومی سلامتی کے مشیر اور سینئر عسکری و سول افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں دفاع، توانائی، اطلاعات و نشریات، داخلہ، خزانہ، انسانی حقوق، منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے وفاقی وزراء بھی شریک تھے۔

متعلقہ تحاریر