سری لنکا میں توانائی اور خوراک کا بحران،صدر  کے گھر کا گھیراؤ،کرفیو نافذ

ایندھن اور کھانے پینے کی اشیا ناپید ہوگئی، گاڑیوں میں ڈالنے کیلیے بھی پٹرول دستیاب نہیںِ،بجلی کی لوڈشیڈنگ 13 گھنٹے تک جاپہنچی، 43افراد گرفتار

سری لنکا میں سنگین معاشی بحران خطرناک صورتحال اختیا ر کرگیا۔ بجلی ،ایندھن اور کھانے پینے کی اشیا ناپید ہوگئی، بجلی کی لوڈشیڈنگ 13 گھنٹے تک جاپہنچی۔ تباہ حال معاشی صورتحال کے باعث دارالحکومت کولمبو میں عوام مشتعل ہوکر سڑکوں پرآگئے اور صدر راجا پاکسے کے گھر کے باہر احتجاج کرکے جلاؤ گھیراؤ کیا اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

مشتعل مظاہرین نے جمعرات کی رات صدر راجا پاکسے کے گھر کے باہر دھاوا بول کر رکاوٹیں  کھڑی کردیں اور ایک بس کونذرآتش کردیا۔صدر گوٹابھایا راجا پاکسے نے پر تشدد احتجاج کا ذمے دار”انتہا پسند عناصر“کو قرار دیدیا۔

یہ بھی پڑھیے

خطے میں ایک اور سرد جنگ نہیں ہونے دینگے، چینی وزیر خارجہ کا بروقت بیان

مولاناڈیزل کی دھوم پڑوسی ملک میں بھی سنائی دینے لگی

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق  سری لنکا غیر ملکی زرمبادلہ کےشدید بحران کا شکار ہے جس نے اس کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔بجلی کی 13 گھنٹے طویل لوڈشیڈنگ ، ایندھن، ضروری اشیائے خوردونوش اور دواؤں کے شدید بحران کے باعث سری لنکن عوام میں غم و غصہ انتہا کو پہنچ گیا ہے۔

سری لنکن پولیس نے  مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے کولمبو میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے ایوان صدر جانے والے راستے بند کردیے۔ پولیس نے آج صبح 45افراد کوبغیر کسی الزام کے  گرفتارکرلیا جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا ۔

جمعرات کی رات ایوان صدر کے باہر احتجاج پرامن طور پر شروع ہوا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس  نے آنسو گیس اور واٹر کینن  کااستعمال  کرتے ہوئے مظاہرین پر تشدد کیا جس کے جواب میں مظاہرین نے مشتعل ہوکر پتھراؤ کیا۔

protest in srilanka، سری لنکا

سری لنکا میں پرتشدد مظاہرے صدر راجاپاکسے کی مقبولیت میں واضح کمی کی نشاندہی کررہے ہیں جو 2019 میں واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی کے بعدملک میں معاشی استحکام  کے وعدے کے ساتھ برسراقتدار آئے تھے۔

ناقدین سری لنکا کی موجودہ  بدحالی کی  وجہ حکمران طبقے کی بدعنوانی او راقربا پروری کو قرار دے رہے ہیں کیونکہ صدر راجاپاکسے کے بھائی اور بھتیجے  کئی اہم وزارتوں پرقابض ہیں ۔

خبروں کے مطابق صدر اور ان کے وزرا کو بجلی کی کٹوتی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جبکہ حکمران  خاندان کے افراد کی طرف سے دولت کی نمائش نے عوامی غم وغصے میں مزید اضافہ کیا ہے۔

حکومت کرونا وبا اور 2019میں گرجا گھروں پر ہونے والے حملوں کے  باعث سیاحت پر پڑنے والے منفی اثرات کو معاشی بحران  کی وجہ قرار دے رہی ہے جوکہ ملکی زرمبادلہ کےحصول کا اہم ذریعہ ہے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کو بننے میں کافی وقت لگا ہے، موجودہ حکومت  کی جان بوجھ کر کی گئی بدانتظامی اس بحران کی براہ راست ذمے دار ہے۔

سری لنکا کے مرکزی بینک کے سابق ڈپٹی گورنر ڈبلیو اے وجیوردینا نے بی بی سی کو بتایا کہ سری لنکا نے 2009 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد عالمی معیشت کے ساتھ مربوط نہ ہو کر بنیادی غلطی کی جس کی وجہ سے اس کی معیشت تقریباً 9 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ برآمدات جو کہ 2000 میں  جی ڈی پی  کا 33 فیصد تھی اب کم ہو کر 12 فیصد رہ گئی ہیں اور اسی سطح پر برقرار ہیں۔

protest in srilanka، سری لنکا

انہوں نے مزید بتایا کہ سری لنکن حکومت کے  روپے کی قدر میں کمی سے انکار کے فیصلے نے بھی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔2019میں سرلنکا میں زرمبادلہ کے ذخائر7.6ارب ڈالر  تھے جو  اب گر کرصرف  2.3ارب ڈالر رہ گئے ہیں ۔جن میں سے  قابل استعمال ذخائر تقریباً 300 ملین ڈالر تک گر چکے ہیں۔

سابق ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق  حالات بہتر ہونے سے پہلے بہت زیادہ خراب ہو جائیں گے کیونکہ بے تحاشہ  درآمدات پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے غیر ملکی کرنسی  کے حصول کا کوئی پائیدارذریعہ نہیں ہے۔سری لنکا کے پاس اب اتنے ڈالربھی نہیں بچے کہ وہ گاڑیوں اور بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کیلیے تیل خرید سکے۔

سری لنکا میں تیل کے شدید بحران کے باعث جمعرات کوبجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ  13 گھنٹےتک پہنچ گیا جو آئندہ دنوں میں 16 گھنٹے تک بڑھ سکتا ہے۔سری لنکا میں پٹرول پمپس کے باہر لمبی  قطاریں لگنے کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہے  جب کہ شہریوں کو کھانا پکانے کے گیس سلنڈر جیسی بنیادی اشیا  کی خریداری کیلیے گھنٹوں قطاروں میں کھڑا ہونا پڑرہا  ہے۔

شدید گرمی کے باعث قطاروں میں کھڑا ہونے  کے باعث شہریوں کی اموات بھی رپورٹ ہورہی ہیں۔گزشتہ چند ہفتوں کے دوران قطاروں میں گرنے سے 5معمر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ملک بھر سے اشیائے خوردونوش اور ضروری ادویات کی قلت بھی سامنے آ رہی ہے۔

متعلقہ تحاریر