جلیل عباس جیلانی نے اسد مجید کیخلاف ماریانہ بابر کا پروپیگنڈا مستردکردیا

اسد مجید نے وہی کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا کہ جو کچھ بھی ان تک پہنچایا گیا اسے ایمانداری سے رپورٹ کریں،وہ ایک  شاندار سفارتکار ہیں، سابق سیکریٹری خارجہ

سابق سیکریٹری خارجہ اور امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباس جیلانی نے سینئر سفارتکار اسد مجید  کیخلاف دی نیوز کی سینئر رپورٹر ماریانہ بابر کے پروپیگنڈے کو مسترد کردیا۔

ماریانہ بابر نے حال ہی میں امریکا کے بعد برسلز میں تعینات ہونے والے پاکستانی سفیر اسد مجید خان  پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے برسلز میں تعیناتی حاصل کرنے کیلیے حکومت کی خواہش پر مراسلہ تحریر کیا۔

یہ بھی پڑھیے

لیٹر گیٹ کی تحقیقات کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ رکوانے کا مطالبہ

شیخ رشید نے سیاسی بحران کے 4حل پیش کردیے،عیدکے بعد اینکر بننے کا اعلان

ماریانہ بابر نے اپنےٹوئٹر تھریڈ میں لکھا تھا کہ عام تاثر یہی ہے کہ حکومت نے اسد مجید خان کودفتر خارجہ کے ذریعےبیلجیئم میں تعیناتی کے بدلے ایسا خط لکھنے پر مجبور کیا تھا۔ اسی لیے حکومت لیٹر گیٹ کی تحقیقات کا حکم دینے سے انکار کر رہی ہے۔

ماریانہ بابر نے مزید لکھا کہ یہ بات درست ہے یا نہیں  لیکن یہ  یقینی ہے کہ برسلز میں تعینات سفیر کو اگلی حکومت مناسب وقت پر واپس بلائے گی تاکہ یہ وضاحت کی جا سکے کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔

جلیل عباس جیلانی نے ماریانہ بابر کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ اسد مجید نے وہی کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا کہ جو کچھ بھی ان تک پہنچایا گیا اسے ایمانداری سے رپورٹ کریں ۔

جلیل عباس جیلانی نے مزید لکھا کہ اسد مجید ایک  شاندار سفارتکار ہیں  ، میرے  ساتھ واشنگٹن میں بطور ڈپٹی چیف مشن کام کرچکے ہیں ، ان کی دیانت داری کسی شک و شبہے سے بالاتر ہے۔

متعلقہ تحاریر