کیا تعداد پوری نہ ہوئی تو پنجاب اسمبلی بھی تحلیل کردی جائے گی؟
عثمان بزدار کے مستعفی ہونے کے بعد نامزد وزیر اعلیٰ پرویز الہٰی کے نمبر پورے نہ کرنے کی صورت میں پنجاب اسمبلی بھی 6 اپریل کو تحلیل ہو سکتی ہے۔

لاہور: سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے استعفے کے بعد نامزد وزیر اعلیٰ پرویز الہٰی کے حکومتی نمبرز پورے نہ ہونے کی صورت میں نئے گورنر پنجاب 6 اپریل کو پنجاب اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان آج سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرنے جارہے ہیں جس میں وہ پنجاب حکومت کے لیے حکمت عملی کو بھی حتمی شکل دیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان اگلے انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہونگے، سینئر صحافی
پی ٹی آئی انتخابات کیلئے تیار ہےاپوزیشن کو بھی تیاری کرنا چاہئے، فیصل جاوید
یاد رہے کہ صوبائی اسمبلی میں 3 اپریل کو نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہونا تھی، جس میں مسلم لیگ (ق) کے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ چوہدری پرویز الٰہٰی اور مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز، جنہوں نے جہانگیر خان ترین (جے کے ٹی) گروپ کی حمایت حاصل کی تھی۔ توقع کی جارہی ہے کہ اگلے وزیر اعلیٰ پنجاب کی دوڑ میں حمزہ شہباز آگے بڑھ جائیں گے۔
گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اجلاس میں خلل پڑ گیا تھا جس کی وجہ سے اجلاس ملتوی کرنا پڑ گیا تھا۔
گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی برطرفی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگ ق کے رہنما نے کہا کہ چوہدری محمد سرور کے ساتھ ان کے 2000 سے تعلقات ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ میں ان کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا۔
روزنامہ ڈان کی خبر کے مطابق، چوہدری پرویز الہٰی نے زور دے کہا تھا کہ ان کے پاس وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے لیے مطلوبہ تعداد موجود ہے۔
اس سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ قائد (پی ایم ایل-ق) کے رہنما پرویز الٰہی نے وزیراعظم خان کی جانب سے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد پنجاب کا وزیراعلیٰ بننے کے لیے ہوم ورک مکمل کرلیا تھا۔
نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الہٰی نے پنجاب اسمبلی کے 22 قانون سازوں کی حمایت حاصل کرلی ہے ، جن میں پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے 16، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے تین اور پاکستان تحریک انصاف جہانگیر ترین گروپ کے تین ارکان شامل ہیں۔









