امریکی کیبل کا معاملہ ، اپوزیشن حکومت کو ریڈ لائن عبور کرنے پر مجبور نہ کرے
بلاول بھٹو زرداری نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے این ایس سی کی کارروائی کی وضاحت طلب کی ہے جبکہ فواد چوہدری نے چیئرمین پیپلز پارٹی کو کہا ہے کہ بات کرنے سے پہلے کسی عقلمند سے مشورہ کرلیا کریں ، ورنہ زبان ہم بھی رکھتے ہیں۔
سیاست میں تلخی عنصر بڑھتا چلا جارہا ہے ، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اپوزیشن کو غیرملکی سازش ملوث قرار دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم کو مسترد کردیا ، جس پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی کارروائی کی وضاحت طلب کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو جواب دیتے ہوئے فواد حسین چوہدری نے کہا ہے آپ ہمارا منہ نہ کھلوائیں کیونکہ اگر ہمارا منہ کھل گیا تو آپ ، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان اس کو بھگتیں گے۔
ہم نیوز کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے فواد چوہدری سے سوال کیا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری نے ڈی جی آئی ایس پی آر پر سوال اٹھا دیے ہیں کہ ترجمان آئی ایس پی آر بتائے کہ خط والی سازش کے اصل محرکات کیا ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
جی ڈی اے کا پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ، انتخابی تیاریوں کا آغاز
شہباز شریف کا وزیراعظم بننے کا خواب چکنا چور
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ” اب یہ لوگ ہمارا منہ کھلوانا چاہ رہے ہیں ، اور اگر اب ہمیں عدالت بولے گی تو وہ لیٹر بھی پہنچا دیں گے ، نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ کی تفصیلات بھی پہنچا دیں گے۔ "
انہوں نے کہا کہ "ہم یہ بھی بتا دیں گے کہ کتنی مرتبہ بلاول بھٹو صاحب کی کہاں کہاں اور کس کس سے ملاقات ہوئی ، کس کس ایم این اے کی کس کس سے ملاقات ہوئی۔”
فواد چوہدری نے کہا کہ "اب جبکہ سپریم کورٹ اس سارے معاملے کو دیکھ رہی ہے تو ہم ساری چیزیں لے جاکر دے دیتے ہیں۔ اور پھر بھگتیں گے شہباز شریف ، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان صاحب۔”
بلاول بھٹو پر طنز کرتے ہوئے فواد چوہدری نے مزید کہا ہے کہ "نیشنل سیکیورٹی کے معاملات پر گفتگو سے پہلے کسی عقلمند سے مشورہ کر لیا کریں تحقیقات ہوئیں تو آپ کو بہت نقصان ہو گا ہم ابھی بہت خاموش ہیں اس کو غنیمت سمجھیں۔”
نیشنل سیکیورٹی کے معاملات پر گفتگو سے پہلے کسی عقلمند سے مشورہ کر لیا کریں تحقیقات ہوئیں تو آپ کو بہت نقصان ہو گا ہم ابھی بہت خاموش ہیں اس کو غنیمت سمجھیں https://t.co/DIGSKBAY87
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) April 4, 2022
واضح رہے کہ گذشتہ بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ "کیا ڈی جی آئی ایس پی آر واضح کریں گے کہ کیا نیشنل سیکورٹی کمیٹی (این ایس سی) اجلاس میں قومی اسمبلی کے 197 ارکان کو غدار اور غیر ملکی سازش کا حصہ قرار دیا گیا؟”
ExPM IK is using ‘foreign conspiracy’ to justify his coup. Will @OfficialDGISPR clarify did NSC meeting declare the 197 members of NA traitors and part of a foreign plot? Can foreign office or defense ministry produce any official correspondence between 7-27th on foreign sazish.
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) April 4, 2022
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ” کیا دفتر خارجہ یا وزارت دفاع غیر ملکی سازش پر 7 سے 27 مارچ کی تاریخ کے درمیان کوئی سرکاری خط و کتابت پیش کر سکتی ہے؟۔”
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کونسل (این ایس سی) کا اہم اجلاس ہوا تھا جس میں ملکی سیاسی اور عسکری قیادت نے شرکت کی تھی۔ این ایس سی نے وزیراعظم کو ملنے والے دھمکی آمیز خط کو ایک حقیقت قرار دیتے ہوئے اسے ملک کے خلاف ایک سازش قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ معاملات شروع ہوتے ہیں 27 مارچ کو وزیراعظم کی جانب سے جلسے میں دھمکی آمیز خط لہرانے سے ، خط نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں پہنچا ، این ایس سی نے خط کی اصلی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی مداخلت کی مذمت کی ، دو روز قبل اس اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو کا نام بھی سامنے آگیا جس نے اسد مجید کو دھمکی آمیز پیغام پہنچایا تھا۔









