عمران خان حکومت کو لے کر روس اور امریکا آمنے سامنے آ گئے

روسی وزارت خارجہ کا کہنا اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا ہے کہ عمران خان کو روس کا دورہ کرنے پر سزا دی جارہی ہے جبکہ امریکی محکمہ ترجمان نے کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد سے امریکہ کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے روس کا دورہ منسوخ نہ کرنے پر پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو سزا دی ہے جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے عمران خان کی جانب سے امریکہ پر الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بیانات میں صداقت نہیں ہے۔

نافرمان کا لفظ استعمال کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے روس کا دورہ منسوخ نہ کرنے پر ’نافرمان‘ عمران خان کو سزا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر میں صرف ہندو پنڈتوں کا قتل نہیں ہوا، سابق را چیف

امریکا کس طرح دیگر ممالک میں مداخلت کرتا ہے؟ ویڈیو وائرل

روسی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں صدر عارف علوی کی جانب سے قومی اسمبلی کی تحلیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب وزیرِ اعظم عمران خان نے فروری میں ماسکو کا دورہ کرنا تھا تو اس وقت امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی وزیرِ اعظم پر یہ دورہ منسوخ کرنے کے لیے زبردست دباؤ ڈال رہے تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ جب وہ پھر بھی روس کے دورے پر آئے تو امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لیو نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے دورہ فوری طور پر منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا مگر یہ مطالبہ بھی رد کر دیا گیا۔

اس کے بعد بیان میں ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار (مبینہ طور پر ڈونلڈ لیو) اور امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں پاکستانی میڈیا اطلاعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے اس بارے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ امریکہ نے ’نافرمان‘ عمران خان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا، وزیرِ اعظم کی جماعت کے ارکان کا ایک گروہ ’اچانک‘ اپوزیشن میں چلا گیا اور اچانک سے پارلیمان میں وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروا دی گئی۔

روس وزارت خارجہ نے مزید لکھا ہے کہ یہ امریکہ کی جانب سے ایک آزاد ریاست کے اندرونی معاملات میں اپنے ’خود غرض مقاصد‘ کی خاطر شرمناک مداخلت کی ایک اور کوشش ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتا ہے۔ امریکی پاکستان میں آئین کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کی آبیاری کے لیے سپورٹ کرتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ یہ اصول صرف پاکستان نہیں دنیا کے دوسرے ممالک کے لیے بھی یہی ہیں۔

نیڈ پرائس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکہ پر لگائے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ امریکی قانون کی حکمرانی اور برابری کے اصولوں کو سپورٹ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف آنے والی تحریک عدم اعتماد سے امریکہ کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

واضح رہے قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر 3 اپریل کو ووٹنگ ہونا تھی ، تاہم ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اپوزیشن کی تحریک کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

متعلقہ تحاریر