مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی پریس کانفرنس کا پوسٹ مارٹم
مریم نواز نے خط کو سرے سے ماننے سے انکار کردیا،اسد مجید کوراتوں رات برسلز بھجوانےاور اسپیکر اسد قیصر پر کنی کترانے کاغلط الزام لگایا، اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش بھی کی،فرح خان پر عائد کردہ الزامات تحریک انصاف کے لیے مشکل کھڑی کرسکتے ہیں

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں لیٹر گیٹ اسکینڈل اور قومی اسمبلی کے آخری اجلاس اور اسٹیبلشمنٹ کے موجودہ سیاسی بحران میں کردار سے متعلق کئی دعوے اور سوالات اٹھادیے۔
حقائق کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتاہے کہ مریم نواز خود حقائق سے لاعلم ہیں یا جان بوجھ کر کنی کترارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کو اب بھی اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل ہے، مولانا فضل الرحمان
حزب اختلاف حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی بجائے اپنا بیانیہ ترتیب دیں
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پہلا دعویٰ یہ کیا کہ ایسا کوئی خط موجود ہی نہیں اور عمران خان نے جلسے میں سادہ کاغذ لہرایا۔مریم نواز نے کہا کہ خط چھپاکرتہہ لگاکرپتا نہیں کس درازمیں رکھاہے، آپ نےبتادیاکہ تمام اپوزیشن جماعتیں سازش میں شامل ہیں، سب کچھ بتادیاکہ کہاں سازش تیارہوئی، آپ کو خط سپریم کورٹ کے سامنے رکھنا چاہیے تھا، وہ خط اس لیےنہیں دکھایا کہ ایساکوئی خط موجودہی نہیں تھا، آپ نے جلسے میں سادہ کاغذ لہرایا تھا۔
براہ راست: نائب صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) مریم نواز شریف کی پریس کانفرنس۔ https://t.co/BjKXrrtJ5P
— PML(N) (@pmln_org) April 5, 2022
ان کا مزید کہنا تھاکہ وزارت خارجہ میں بیٹھ کراس خط کی نوک پلک درست کی گئی، وہ سفیر کہاں جواس خط کےاصل کردارہیں؟ اس خط کو وزارت خارجہ میں ڈرافٹ کیا گیا، ان کوعلم تھاکہ جب خط قوم کے سامنے آئےگا توپول کھل جائے گا، خط کاڈرامہ کرنا تھا تو اس سے ایک دن پہلے پاکستانی سفیر کو راتوں رات امریکاسےبرسلزبھیجا۔
مریم نواز کا یہ دعویٰ کہ کوئی خط وجود نہیں رکھتا اس وجہ سے بے بنیاد ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مسلح افواج کی قیادت نے نہ صرف خط میں استعمال کی گئی زبان کو سفارتی آداب کے منافی قرار دیا تھا بلکہ خط کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مذکورہ ملک کو ڈی مارش بھیجنے کی منظوری بھی دی تھی۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے دوسرا بے سروپا الزام یہ عائد کیا کہ حکومت نے خط بھیجنے والے پاکستانی سفیر اسد مجید کو راتوں رات برسلز بھیج دیا۔حالانکہ حقائق کا جائزہ لیا جائے تویہ بات سامنے آتی ہے کہ اسد مجید امریکا میں اپنی تعیناتی کی مدت مکمل کرچکے تھے اور ان کی برسلز میں تعیناتی کا فیصلہ نومبر میں ہی ہوچکاتھا۔
One analyst on @GeoTVofficial said Asad Majeed was all of a sudden moved to Brussels because govt wanted to use his cable for political gains, which could have had implications for him. Bhai his replacement was announced back in November. https://t.co/GHhljGomHn
— Baqir Sajjad (@baqirsajjad) March 31, 2022
مریم نواز نے ایک اور دعویٰ کیا کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے جلدی جلدی رولنگ پڑھتے ہوئے آخر میں اسد قیصر کا نام لے کر اپنی جان چھڑائی جبکہ اسپیکر اس لیے اجلاس میں نہیں آئے کہ وہ اس جرم کی سزا کے بارے میں جانتے تھے، آئین توڑنے کا سب سے بڑا مجرم عمران خان ہے جس نے ڈپٹی اسپیکر کو پرچی لکھ کر دی تھی۔
مریم نواز کا یہ دعویٰ میں من گھڑت اور حقائق کے منافی ہے۔مریم نواز کو اسپیکر پر الزام لگانے سے پہلے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اتوار کے دن خود اپوزیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی۔ اسپیکر اسد قیصر اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے باعث ہی اجلاس کی صدارت کرنے نہیں آئے۔مریم نواز کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اپنی جان چھڑانے کیلیے رولنگ کے آخر میں اسد قیصر کا نام لیا۔
حقیقت یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں رولنگ اسپیکر ہی جاری کرسکتا ہےلہٰذا تحریک عدم اعتماد کیخلاف رولنگ اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے ہی جاری کی گئی تھی ۔ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے صرف رولنگ پڑھ کر سنانے کا فریضہ انجام دیاتھا۔
مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران اداروں کو متنازع بنانے اور سیاست میں گھسیٹنے کی بھی کوشش کی۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا، وہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی ہے، عمران بچاؤ کمیٹی نہیں۔انہوں نے سیکیورٹی اداروں سے معاملے کی وضاحت کا بھی مطالبہ کیا ۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ادارے خود کو نیوٹرل قرار دے چکے اور سیاست میں پڑنا نہیں چاہتے تو مریم نواز کا مطالبہ اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کے مترادف ہے۔
مریم نواز نے خاتون اول بشریٰ بی بی کی مبینہ دوست فرح خان پربھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں ۔ مریم نواز نے کہا کہ عثمان بزدار صرف نام تھا،پنجاب کی اصل وزیراعلیٰ فرح خان تھی جو دراصل بنی گالہ کی فرنٹ مین تھی، جس کو پیسے دیے بغیر کوئی ٹرانسفر پوسٹنگ نہیں ہوتی تھی، پنجاب میں کوئی سڑک نہیں بنی لیکن بزدار نے فرح کے گاؤں کی ساری سڑکیں بزدار نے بنوائیں، وہ اگر بچ کر نکل بھی گئیں تو ہم اُسے انٹرپول کی مدد سے پاکستان واپس لائیں گے۔
ذرائع کے مطابق فرح خان عرف گوگی پر پنجاب میں کرپشن کے سنگین الزامات ہیں ۔ ذرائع کے مطابق فرح خان پر عائد کردہ الزامات تحریک انصاف کیلیے مستقبل مسئلہ بن سکتے ہیں۔









