معیاری تعلیم بچے کو ملازمت نہیں اچھا کردار دیتی ہے

پشاور کے سماجی رہنما نے ٹیکسی میں سفر کیا تو اس نے بچے کے اسکول کا انگریزی سرکلر ترجمہ کرنے کیلیے کہا، ڈرائیور کی علم دوست گفتگو سے مسافر حیران۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنما حرمت علی شاہ نے اپنے ساتھ ٹیکسی میں پیش آنے والے ایک حیرت انگیز واقعے کی تفصیلات ٹوئٹر پر بیان کیں۔

حرمت شاہ نے بتایا کہ وہ ٹیکسی میں بیٹھے تو ڈرائیور نے انہیں ایک انگریزی میں لکھی ہوئی پرچی تھمائی اور کہا کہ اس کو ترجمہ کر کے سمجھا دیں۔

یہ پرچی اسکول کی طرف سے تھی جس میں والدین سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے بچے کا رزلٹ چیک کریں اور اس کی رہنمائی کریں۔

حرمت علی شاہ نے جب ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ میرا بیٹا پشاور ماڈل اسکول کی ‘کے جی’ کلاس میں پڑھتا ہے۔

اسکول بہت مہنگا ہے اس لیے مجھے کئی اضافی گھنٹے ٹیکسی چلانا پڑتی ہے تاکہ فیس کا انتظام ہوسکے۔

حرمت شاہ نے ڈرائیور سے پوچھا کہ اتنے مہنگے اسکول میں بچے کو داخلہ کیوں دلوایا؟

اس کے جواب میں ڈرائیور نے اُن سے جو باتیں کیں وہ عام آدمی کی باتیں تھیں، وہ عام آدمی جسے ہر پالیسی، سیاسی اور علمی بحث سے دور رکھا جاتا ہے۔

لیکن اس عام آدمی کے نہ صرف خواب ہیں بلکہ اس کا وثن بھی ہے، اس کے پاس ایسی معلومات اور سمجھ بوجھ ہے جو کہ بہت سے متمول افراد کے پاس بھی نہیں ہے۔

حرمت شاہ نے بتایا کہ مہنگے اسکول بھیجنے کے لیے ڈرائیور کا یہ فلسفہ تھا کہ اگر میرے بیٹے کی بنیاد اچھی ہوگی تو وہ اپنا راستہ خود تلاش کرلے گا، چاہے میں مستقبل میں اس کے تعلیمی اخراجات برداشت کرسکوں یا نہیں۔

ڈرائیور نے کہا کہ میں میرا بیٹا جب نرسری کلاس میں تھا تو میں اسے پڑھا دیا کرتا تھا لیکن اب جبکہ وہ کے جی میں ہے تو اسے کسی اور کی مدد درکار ہے۔

ڈرائیور اس بات پر فکرمند تھا کہ جب اس کا بیٹا پہلی یا دوسری کلاس میں جائے گا تو میں اسے پڑھنے میں مدد نہیں کرسکوں گا لیکن وہ بہت پر امید تھا کہ وہ ٹیکسی میں آنے والے اپنے مسافروں سے مدد لے کر اپنے بیٹے کی رہنمائی کرے گا۔

ڈرائیور کا کہنا تھا کہ تعلیم کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو ایک دن میں ملازمت مل جائے، تعلیم بچے کو ایک کردار دیتی ہے اور اسے ایک اچھی زندگی گزارنے کے لائق بناتی ہے۔

ٹیکسی ڈرائیور نے حرمت علی شاہ کو بتایا کہ اسکول میں بہت ساری سرگرمیاں ہوتی ہیں، ایک دن کسی جگہ کا دورہ، دوسرے دن اسکول میں کوئی تقریب، آج کل کے اسکول بہت مختلف ہوگئے ہیں۔

حرمت شاہ نے کہا کہ ایک داڑھی اور ٹوپی والا وہ شخص جو کہ محنت کش طبقے سے تعلق رکھتا ہے، جن کے بارے میں رائے قائم کی گئی ہے کہ داڑھی والے افراد یا تو جنونی ہوتے ہیں یا دنیاوی معاملات سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں۔

اس شخص نے ایک گفتگو میں مجھے ورطہ حیرت میں ڈالا اور خوشگوار مسرت میں مبتلا کردیا، یہ آدمی سب دقیانوسی رواجوں کو توڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکسی ڈرائیور صرف اپنے بچے کو اچھا انسان بنا کر دنیا میں بہتری پیدا کرنے کا امکان تلاش کر رہا ہے۔

انسانی خوابوں اور کوششوں کی یہ کہانیاں کبھی بھی ہماری گفتگو، ہمارے مباحثوں اور ہمارے خیالات کا حصہ نہیں بنتیں۔

ہمارا دنیاوی زاویہ اس وقت ہمیشہ یکطرفہ اور کج نظر ہوجاتا ہے جب ہم ان لوگوں کی بات کرتے ہیں جن کا تعلق ہمارے طبقے سے نہیں ہوتا۔

حرمت علی شاہ نے کہا کہ سب سے بہترین خیال اور تجزیہ اس وقت پیش کیا جاسکتا ہے کہ جب وہ لوگوں سے جُڑا ہو۔

متعلقہ تحاریر