سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا نہیں حزب اختلاف اس پر شور مچا رہی ہے

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں فیصلہ ان کے خلاف آیا تو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد سے ملک کو سنگین سیاسی بحران میں دھکیلنے والے آئینی بحران کے بارے میں مطلوبہ فیصلہ حاصل کرنے کے لیے عدالت عظمیٰ پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے جبکہ حزب اختلاف کی لیڈر شپ نے ابھی سے اُس فیصلے پر تنقید شروع کردی ہے جو ابھی آیا نہیں ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہنا ہے عدالتوں کا احترام اپنی جگہ پر مگر اس کے فیصلوں سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں۔ ہم نے آئین اور قانون کو ضرور کامیاب بنانا ہے ، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ہوٹل کا وزیراعلیٰ بننا مبارک ہو، مونس الہٰی کا حمزہ شہباز پر طنز

قومی اسمبلی میں ماورائے آئین اقدام، کے پی اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے زور دے کر کہا ہے کہ مشترکہ اپوزیشن مطالبہ کر رہی ہے کہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے فیصلے کو منسوخ کیا جائے۔ اگر عدالتی فیصلہ ان کے خلاف آیا تو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کیس کا فیصلہ آئین کے حق میں آنا چاہیے، ورنہ آنے والے الیکشن بھی متنازع ہوں گے۔

گذشتہ روز جیو نیوز چینل کے پروگرام میں اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ "اگر عدالتی فیصلہ عمران کے لیے فیس سیونگ ہوا تو سوال ہو گا کہ کیا عمران خان آئین سے زیادہ اہم ہے؟”

گذشتہ روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ "اگر بغاوت میں تیس سیکند لگ سکتے ہیں تو تدارک میں تیس سیکند لگنے چاہئیں۔”

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "انصاف میں تاخیر انصاف نہ فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں آئین کو توڑا گیا۔”

بلاول بھٹو زرداری نے لکھا ہے کہ "آج پنجاب کے ڈپٹی اسپیکر اسمبلی جانے سے روک دیا گیا، وزیراعلیٰ کے چناؤ کے لیے ووٹنگ ہونا تھی مگر پنجاب اسمبلی کو خاردار تاریں لگا کر سیل کردیا گیا۔”

مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "فضل الرحمان نے سپریم کورٹ کو واضح دھمکی دے دی کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آیا تو اس کو نہیں مانا جائے گا بلکہ اس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ یہ ہیں ان کے رویے۔  یہ کہتے خود کو جمہوری ہیں لیکن یا تو کسی کو خریدتے ہیں اور اگر کوئی نہ بکے تو اس کو دھمکی لگاتے ہیں۔ ہر صورت انتشار پھیلانا کی۔”

بلاول بھٹو زرداری کے تازہ انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ "رات کے اس پہر اپوزیشن کا بھان متی کا کنبہ سپریم کورٹ کو دھمکیاں لگا رہا ہے، اگر یہاں فیصلے دھونس، دھاندلی اور بدمعاشی سے حاصل کرنے ہیں تو پھر خانہ جنگی ہو گی، اس انتشاری ٹولے سے نمٹنا ملک کی سلامتی کیلئے اہم ہے۔”

 

متعلقہ تحاریر