شاہ عبدالطیف یونیورسٹی میں ایک روزہ تصویری نمائش ، درجنوں تصاویر آویزاں
سکھر: شاہ عبدالطیف یونیورسٹی میں ایک روزہ تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا، شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کے طلبہ کی جانب سے فطرت، ماحولیاتی آلودگی، غربت، چائلڈ لیبر کی عکاسی کرنے والی درجنوں تصاویر آویزاں کی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کی جانب سے فیکلٹی ممبر فرحان علی نوناری کے زیر نگرانی نیو فیکلٹی کی کاریڈور میں ایک روزہ تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
ترقیاتی کاموں کے نام پر سکھر انتظامیہ نے خزانے کو چونا لگانا شروع کردیا
سکھر شہر کے ناکارہ فلٹریشن پلانٹس اور سیوریج سسٹم عوام کے لیے وبال جان
ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر تاج محمد لاشاری اور میڈیا اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر مجیب الرحمان ابڑو نے نمائش کا افتتاح کیا. تصویری نمائش میں میڈیا اسٹڈیز کے طلبہ و طالبات کی جانب سے مختلف موضوعات پر لی گئی تصاویر آویزاں کی گئیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر تاج محمد لاشاری نے کہا کہ طلبہ کی جانب سے لی گئیں تصاویر موضوعاتی اور کافی دلچسپ ہیں. نمائش میں شامل تصاویر معاشرے میں حل طلب پیچیدہ مسائل کی طرف توجہ دلا رہی ہیں۔
طلبہ کی جانب سے تصاویر کی صورت میں ماحولیاتی آلودگی، غربت، لڑکیوں کی تعلیم اور چائلڈ لیبر کے مسائل اور جنگلی جیوت کو پیش خطرات جیسے مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے، جبکہ سکھر اور لاڑکانہ ریجن کے فطرتی حسن اور آثار قدیمہ کے خوبصورت مقامات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے جس سے سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے۔
چئیرمین میڈیا ائنڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز ڈاکٹر مجیب الرحمان ابڑو نے کہا کہ تصویری نمائش کا مقصد فوٹو جرنلزم کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں فوٹو جرنلزم کی بہت اہمیت ہے، فوٹو جرنلسٹس موضوعاتی تصاویر کی صورت میں حکومتوں اور اداروں کو مختلف اہم مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہیں.کئی مرتبہ جنگ اور قحط زدہ متاثرین کی تصاویر نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کے اپنی پالیسیز میں تبدیلی لانے پر مجبور کیا۔
اسسٹنٹ پروفیسر احمد علی میمن اور اسسٹنٹ پروفیسر ماریہ عیسانی نے طلبہ کی آویزاں کی گئی تصاویر کو سراہا، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی صحافت میں فوٹو جرنلزم کی بڑی اہمیت ہے، شامی پناہ گزیر بچے ایلان کی تصویر نے عالمی ضمیر کو اتنا جھنجھوڑا کہ تمام یورپی ممالک نے اپنی سرحدیں شامی پناہگیروں کیلئے کھول دیئے۔
دریں اثناء پروفیسر ڈاکٹر آغا نادیہ، پروفیسر امیر کھوڑو، پروفیسر امیر علی چانڈیو، ڈاکٹر طاہرہ جٹ، سلوٹا کے صدر ڈاکٹر اختیار علی گھمرو، ڈاکٹر حسام الد?ن شیخ، ڈاکٹر ممتاز علی ساند اور عشرت میرانی سمیت مختلف شعبہ جات کے اساتذہ اور سینکڑوں طلبہ نے تصویری نمائش کا معائنہ کیا۔









