رکن اسمبلی کی حکومت سےعلیحدگی ، اسرائیلی وزیراعظم اکثریت سے محروم ہوگئے
حکومت سے الگ ہونے کے بعداسرائیل میں سیاسی عدم استحکام کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے

اسرائیلی پارلیمان کی ایک رکن ایدت سلمان نے مذہبی جھگڑے کی بنیاد پر بدھ کو حکومت سے علیحدہ ہو گئیں جس کے بعد ‘یامینا ‘ پارٹی سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ کی حکومت نے پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم ہوگئی ہے ۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ادت سلمان کی رخصتی کے بعد تقریباً ایک برس پہلے تشکیل پانے والی حکومت کو دوبارہ الیکشن کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔ادت سلمان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی ریاست کے یہودی تشخص کو نقصان پہنچانے میں مددگار نہیں بن سکتیں اور وہ دائیں بازو کی حکومت تشکیل دینے میں مدد دیں گی۔اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینٹ وزیراعظم تو رہیں گے، لیکن ان کی 60ممبران پر مشتمل حکومت 120ارکان کے پارلیمان میں معلق رہے گی۔
یہ بھی پڑھیے
اسرائیلی فوج نے 2021 میں 355 فلسطینیوں کو شہید کیا، رپورٹ
اسرائیلی سپریم کورٹ میں پہلے مسلمان جج کی تقرری
واضح رہے کہ حکومت چھوڑنے والی ناراض رکن ایدت سلمان کا تعلق وزیراعظم نفتالی بینٹ کی پارٹی ‘یامینا’ سے ہے جو انتہائی دائیں بازو کی جماعت ہے جس کے حکومت سے الگ ہونے کے بعداسرائیل میں سیاسی عدم استحکام کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
اسرائیل میں گزشتہ 3 برس میں پانچ بار الیکشن ہوچکے ہیں، موجودہ اسرائیلی حکومت کے اتحاد میں 8 سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرسکتی ہے یا نہیں؟ گزشتہ برس نفتالی بینٹ نے سابق وزیراعظم بین یامین نتن یاہو کی 12 برس سے قائم حکومت کو غیر فطری اتحاد کے ذریعے ختم کردیا تھا۔









