چیف جسٹس اور ساتھی ججز کا تاریخی فیصلے کے ذریعے ناقدین کو سرپرائز
سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازوخود نوٹس کیس میں تاریخی فیصلے کے ذریعے نہ صرف نظریہ ضرورت کو دفن کردیا بلکہ ناقدین کے منہ بھی بند کردیے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے تحریک عدم اعتماد پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کیخلاف لیے گئے از خود نوٹس کیس میں تاریخی فیصلہ دیکر ناقدین کو سرپرائز دیدیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس جمال مندوخیل،جسٹس مظہر عالم میاں خیل اورجسٹس منیب اختر پر مشتمل لارجر بینچ نے تاریخی فیصلے کے ذریعے نہ صرف نظریہ ضرورت کو دفن کردیا بلکہ ناقدین کے منہ بھی بند کردیے ۔
یہ بھی پڑھیے
ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس ، تحریک انصاف کو سپریم کورٹ میں زبردست شکست
پی ٹی آئی حکومت بحال ہونے پر اپوزیشن خوشی سے بےحال
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں سمیت پاکستانی عوام کی بڑی تعداد کے اندازے، پیشگوئیاں اور بدگمانیاں بھی غلط ثابت کردیں اور اس بات کو سچ ثابت کردکھایا کہ ججز نہیں بلکہ ان کے فیصلے بولتے ہیں ۔
اس فیصلے کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ سمجھے جانے والے 2 سینئر ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منصور علی شاہ موجود نہیں تھے۔یہی وجہ تھی کہ بینچ کی تشکیل کے فوری بعد سے صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے طرح طرح کی پیشگوئیاں اور دعوےشروع کردیے تھے جنہیں عدالت نے اپنے فیصلے سے غلط ثابت کردیا ہے۔
سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت شروع ہوئی تو اپوزیشن اور کچھ صحافیوں نے چیف جسٹس کی جانب سے تشکیل کردہ بینچ اورججز کے ابتدائی ریمارکس پر ہی سوالات اٹھادیے ۔صحافیوں میں خاتون اینکرغریدہ فاروقی اس حوالے سے پیش پیش نظر آئیں۔
اپنے ایک ٹوئٹ میں غریدہ فاروقی نے فل کورٹ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لکھا کہ ملک میں آئین کی پامالی ہوئی ہے، آئین کو توڑا گیا ہے، اساسِ پاکستان کو خطرے میں ڈالا گیا ہے، سسٹم کو ڈی ریل کرنے کیلیے جمہوریت پر دن دیہاڑے حملہ کیا گیا ہے، سپریم کورٹ کا فُل کورٹ بینچ ہی اس سنگین ترین بحران سے پاکستان کو نکال سکتا ہے اور مستقبل کیلئے آئینِ پاکستان کی حفاظت کا ضامن ہوسکتا ہے۔
ملک میں آئین کی پامالی ہوئی ہے؛ آئین کو توڑا گیا ہے؛ اساسِ پاکستان کو خطرے میں ڈالا گیا ہے؛ سسٹم کو ڈی ریل کرنے؛ جمہوریت پر دن دیہاڑے حملہ کیا گیا ہے؛ سپریم کورٹ کا فُل کورٹ بنچ ہی اس سنگین ترین بحران سے پاکستان کو نکال سکتا ہے اور مستقبل کیلئے آئینِ پاکستان کی حفاظت کا ضامن۔
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) April 4, 2022
غریدہ فاروقی مقدمے کی سماعتوں میں التوا پرمسلسل اعتراض اٹھاتی رہیں اور تنقیدی ٹوئٹس داغتی رہیں ۔ایک ٹوئٹ میں غرید فاروقی نے لکھا کہ کمال ہے ویسے، ملک میں آئین توڑا گیا ہے، عوام اضطراب میں ہیں، آئینی بحران ہےمگر سپریم کورٹ سماعت کل تک ملتوی کر رہی ہے۔ گویا آئین توڑا جانا کوئی نارمل بات ہے جس کیلئے کل تک انتظار کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہوتی ہے لیکن آئین اورعوام کل تک انتظار فرمائیے۔
کمال ہے ویسے۔ملک میں آئین توڑا گیا ہے۔ عوام اضطراب میں ہیں۔آئینی بحران ہےمگر سپریم کورٹ سماعت کل تک ملتوی کر رہی ہے۔ گویا آئین توڑا جانا کوئی نارمل بات ہے جس کیلئے کل تک انتظار کیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہوتی ہے۔ لیکن آئین اور عوامِ پاکستان کو کل تک انتظار فرمائیے۔۔
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) April 3, 2022
ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ ملک میں آئین توڑا گیا ہے، آئین سے غداری ہوئی ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان کا آج روزہ ہے۔
ملک میں آئین توڑا گیا ہے؛ آئین سے غداری ہوئی ہے؛ سپریم کورٹ آف پاکستان کا آج روزہ ہے۔
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) April 3, 2022
ایک اور ٹوئٹ میں عدالت کے عبوری احکامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غریدہ فاروقی نے لکھا کہ کوئی ماورائے آئین قدم نہ اٹھایا جائے، گویا جو آج قومی اسمبلی میں ہوا وہ ماورائے آئین نہ تھا؟ امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ کیا جائے، گویا آئین توڑے جانے سے زیادہ امن و امان کی فکر لاحق، کمال! روزہ افطاری کے مینو میں کیا تھا آج ؟
کوئی ماورائے آئین قدم نہ اٹھایا جائے؛
گویا جو آج قومی اسمبلی میں ہوا وہ ماورائے آئین نہ تھا؟؟
امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ کیا جائے؛
گویا آئین توڑے جانے سے زیادہ امن و امان کی فکر لاحق۔۔
کمال !
روزہ افطاری کے مینو میں کیا تھا آج ۔۔؟
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) April 3, 2022
ایک اور ٹوئٹ میں غریدہ نے لکھا کہ ملک میں عملاً اسوقت کوئی حکومت نہیں، سنگین ترین آئینی بحران اور ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے لیکن سپریم کورٹ کیلئے سب سے اہم تھا آج روزہ افطار کرنا۔۔۔
ملک میں عملاً اسوقت کوئی حکومت نہیں۔ سنگین ترین آئینی بحران اور ملکی سلامتی کیلئے خطرہ۔ لیکن سپریم کورٹ کیلئے سب سے اھم تھا آج روزہ افطار کرنا۔۔۔
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) April 3, 2022
غریدہ فاروقی نے ایک ٹوئٹ میں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کو ہی منظم شازش کانتیجہ قرار دینے کی کوشش کی ۔انہوں نے لکھا کہ سپریم کورٹ میں ایک درخواست جاتی ہے۔درخواست گزار”کون“سب کو معلوم، سپریم کورٹ کل لکھ کردیتی ہے پارلیمانی معاملات میں مداخلت نہیں ہو سکتی،اُسی روز رات گئے حکومت کا پلان بنتا ہے، صبح پارلیمان میں آ کر غیرآئینی اقدام کیاجاتا ہے،اُسی روزسپریم کورٹ لکھ کر دیتی ہے رولنگ پر حکمِ امتناع نہیں!
سپریم کورٹ میں ایک درخواست جاتی ہے۔درخواست گزار”کون”سب کو معلوم؛SC کل لکھ کردیتی ہے پارلیمانی معاملات میں مداخلت نہیں ہو سکتی؛اُسی روز رات گئےحکومت کاپلان بنتا ہے؛صبح پارلیمان میں آ کر غیرآئینی اقدام کیاجاتا ہے؛اُسی روز SC لکھ کر دیتی ہے رولنگ پر حکمِ امتناع نہیں! #connectthedots
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) April 3, 2022
غریدہ فاروقی بینچ کی غیرجانبداری پر بھی مسلسل سوالات اور شکوک و شبہات کا اظہار کرتی رہیں ۔ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ انصاف میں تاخیر انصاف فراہم نہ کرنے کے مترادف ہے، تصور کریں، فرض کریں آج اگر ملک میں مارشل لا لگا ہوتا آئین اُس صورت توڑا گیا ہوتا، معزز عدالت کہتی”سب کو”سن کر فیصلہ دینگے؟ تو آج کیا ”تبدیلی“ ہے؟ آپ پر انصاف کی ذمے داری ہے، تحریکِ انصاف کی نہیں، ویسے آج افطاری مینو میں کیا ہے؟
انصاف میں تاخیر انصاف فراہم نہ کرنے کے مترادف ہے! تصور کریں فرض کریں آج اگر ملک میں مارشل لاء لگا ہوتا آئین اُس صورت توڑا گیا ہوتا، معزز عدالت کہتی”سب کو”سن کر فیصلہ دینگے۔۔؟ تو آج کیا “تبدیلی” ہے؟ آپ پر انصاف کی ذمہ داری ہے؛ تحریکِ انصاف کی نہیں!
ویسے آج افطاری مینو میں کیا ہے؟— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) April 4, 2022
ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نہ مبینہ خط طلب کرنا چاہتی ہے نہ سیکیورٹی اداروں سے اِن کیمرا بریفنگ لینا چاہتی ہے؟ (جبکہ سیکیورٹی ادارے اس کیلئے تیار ہیں)۔ یہ خط ہی تو بنیادی وجہ ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور آئین توڑے جانے کی! آخر کیا وجہ ہے؟ کیا کسی کو پھر کسی کا” تحفظ “ مقصود ہے۔۔۔؟
آخر کیا وجہ ہیکہ سپریم کورٹ نہ مبینہ خط طلب کرنا چاہتی ہے نہ سیکورٹی اداروں سے اِن کیمرہ بریفنگ لینا چاہتی ہے؟؟ (جبکہ سیکورٹی ادارے اس کیلئے تیار ہیں)۔ یہ خط ہی تو بنیادی وجہ ہے ڈپٹی سپیکر رولنگ کی اور آئین توڑے جانے کی! آخر کیا وجہ ہے؟ کیا کسی کو پھر کسی کا “تحفظ” مقصود ہے۔۔۔؟
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) April 5, 2022
ایک اور ٹوئٹ میں غریدہ نے معزز عدالت کو سپریم پکوڑہ قرار دیدیا۔
سپریم پکوڑے !!!
آج افطاری کے مینو میں کیا ہے۔۔۔!؟
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) April 5, 2022
سینئر کورٹ رپورٹر عبدالقیوم صدیقی بھی عدلیہ پر اپوزیشن کو بلیک میل کرنے کا تاثر دیتے رہے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ ڈپٹی اسپیکر نے غداری کارڈ پر اسمبلی تحلیل کرنے کا جواز گھڑا، جناب بندیال نے وہی کارڈ دکھاکر اپوزیشن کو فوری انتخابات پر قائل کرنے کا عندیہ دیدیا۔

سینئر صحافی حسنات ملک بھی مقدمے میں طوالت پر عدالت سے شاکی نظر آئے۔انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ چیف جسٹس بندیال کی عدالت میں پی ٹی آئی کا ایک اور اچھا دن، ہر گزرتا لمحہ عمران خان کے حق میں جا رہا ہے۔ سوموٹو دائرہ اختیار کی درخواست کرنے کے باوجود، ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں متضاد نہیں تفتیشی کارروائی کر رہی ہے۔
Another good day for PTI in CJP Bandial court:
Every passing minute is going in favour of Imran Khan. Despite invoking suo motu jurisdiction, its seem that Supreme Court is conducting adversarial not inquisitorial proceedings in this matter. #NoConfidenceMotionFailed— Hasnaat Malik (@HasnaatMalik) April 4, 2022
سینئر صحافی طلعت حسین لارجر بینچ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کا معاملہ سنجیدہ نہ لینے پر شاکی نظر آئے۔
پنجاب میں آیئن کے دن دیہاڑے اغوا پر ریمارکس پریشان کن ہیں۔ آئین کے تحفظ کی ذمہ داری “اسلام آباد میں انصاف لے اور لاہور میں خود ہی طے کر” کی بنیاد پر پوری نہیں کی جا سکتی۔ 12 کروڑ لوگوں کی اسمبلی کو چویدری کے ڈیرے میں بدلا جائے اور عدالت خاموش ہو؟ یہ کونسی آئنی شق ہے؟
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) April 7, 2022
سینئر صحافی سلیم صافی نے بھی ریمارکس کی بنیاد پر ججز کو ان کا حلف یاد کرانے کی کوشش کی ۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف نامہ ۔۔۔۔اس میں کہیں نظریہ ضرورت، زمینی حقائق اور درمیانہ راستہ وغیرہ کا ذکر نہیں۔ انہوں نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ وہ آئین کا دفاع اور حفاظت کریں گے (خواہ اس کے نتائج کچھ بھی ہوں) pic.twitter.com/U7A4GmGjeT
— Saleem Safi (@SaleemKhanSafi) April 7, 2022
سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے بھی ریمارکس جواز بناکر عدالت کو اس کے فرائض یاد دلانے کی کوشش کی۔
ہماری عدالت عظمیٰ اعلیٰ ترین آئینی عدالت ہے۔ اس کا کام آئین کی تشریح اور آئین شکنوں کو سزا دینا ہے۔ یہ انجمن برائے تحفظِ قومی مفاد نہیں ہے۔ اس کام کیلیے پارلیمان موجود ہے۔
— Murtaza Solangi (@murtazasolangi) April 7, 2022
سینئر صحافی مطیع اللہ جان بھی عدالت کارروائی سے خوش نظر نہیں آئے۔
ہماری عدالت عظمیٰ اعلیٰ ترین آئینی عدالت ہے۔ اس کا کام آئین کی تشریح اور آئین شکنوں کو سزا دینا ہے۔ یہ انجمن برائے تحفظِ قومی مفاد نہیں ہے۔ اس کام کیلیے پارلیمان موجود ہے۔
— Murtaza Solangi (@murtazasolangi) April 7, 2022
تاہم چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے ماسٹر اسٹروک کھیلتے ہوئے نہ صرف نظریہ ضرورت کو دفن کردیا بلکہ ناقدین کو تعریف پر بھی مجبور کردیا۔









