شیریں مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدالتی بغاوت قرار دیدیا
کل رات ایک عدالتی بغاوت ہوئی ہے جس میں یہ حکم دیا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کیسے اور کس وقت منعقد ہونا چاہیے، فیصلے سے پارلیمانی بالادستی ختم کردی گئی،وفاقی وزیرانسانی حقوق

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ روز سنائے گئے قومی اسمبلی کی بحالی سے متعلق فیصلے کو عدالتی بغاوت قرار دیدیا۔
شیریں مزاری نے اپنے ٹوئٹ میں عدالتی فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
فوج نیوٹرل اور عدلیہ آزاد ہوگئی، سب یاد رکھیں!
چیف جسٹس اور ساتھی ججز کا تاریخی فیصلے کے ذریعے ناقدین کو سرپرائز
شیریں مزاری نے لکھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو ختم کرنے کے لیے کل رات ایک عدالتی بغاوت ہوئی جس میں یہ حکم دیا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کیسے اور کس وقت منعقد ہونا چاہیے، عدالتی فیصلے سے پارلیمانی بالادستی ختم کردی گئی، افسوس کی بات ہے کہ حکومت کی تبدیلی کی امریکی سازش کا مسئلہ کمرے میں ہاتھی کو بند کرنے جیسا بنادیا گیا۔نتیجتاً ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا لیکن یہ بات یہاں ختم نہیں ہوگی۔
The long shadows hanging over this judicial decision think the game has been won but frankly it has just started. The ppl know who sold their souls to US & to lure of money & in the end it will go to ppl’s court, despite ECP’s inexplicable reluctance!
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) April 8, 2022
اس عدالتی فیصلے پر جو طویل سائے منڈلا رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ کھیل جیت گئے ہیں لیکن سچ کہوں تو یہ ابھی شروعات ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ کس نے اپنی جان پیسے کے لالچ میں امریکا کو بیچ دی ۔الیکشن کمیشن کی ناقابل فہم ہچکچاہٹ کے باوجود آخر کار یہ معاملہ عوام کی عدالت میں جائیں گے۔









