ڈبلیو ٹی او، کورونا میں بہتر معاشی کارکردگی پر پاکستانی اقدامات کی تعریف

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا اجلاس یکم اپریل کو ہوا، کورونا کے دوران حکومت پاکستان کے بروقت فیصلوں کو سراہا گیا جن سے معیشت سنبھل گئی۔

جینیوا کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے کورونا وبا سے پیدا ہونے والی عالمی معاشی ہنگامہ خیزی میں پاکستانی معیشت کی کارکردگی کو بہتر قرار دیا ہے۔

یکم اپریل کو ہونے والے پانچویں ٹریڈ پالیسی جائزہ اجلاس میں یہ بات سامنے رکھی گئی، پاکستان کی طرف سے کامرس سیکرٹری صالح فاروقی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔

اس سے قبل پاکستان کی تجارتی پالیسی کا جائزہ سنہ 2015 میں لیا گیا تھا، ڈبلیو ٹی او ارکان نے حکومت پاکستان کے بروقت اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی جن کی وجہ سے معیشت کو دوبارہ سنبھالا گیا۔

جائزے کے وقت، 21 ارکان نے پہلے سے تحریر کردہ 319 سوالات جمع کروائے اور 33 وفود نے پاکستان کی تجارتی اور معاشی پالیسیز اور اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اراکین نے نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت کیے گئے تجارتی اور تجارت سے متعلقہ ادارہ جاتی اصلاحات کو سراہا۔

پاکستان کی طرف سے ایکسچینج ریٹ سسٹم میں مثبت تبدیلیوں کو سراہا گیا، ساتھ ہی غیر ملکی ایکسچینج پابندیوں پر نظرثانی کے لیے زور دیا گیا۔

نجکاری اور مسابقتی پالیسی میں کی گئیں اصلاحات کی تعریف کی گئی۔ پاکستان کو تعمیری اور اہم کردار ادا کرنے پر سراہا گیا۔

رکن ممالک نے زراعت، ماہی گیری، تجارت اور ماحولیات، ای کامرس اور ڈیویلپمنٹ کے شعبوں میں ہونے والی بات چیت میں پاکستان کی شرکت کو سراہا۔

مزید برآں، پاکستان کو مشترکہ اقدامات میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی جس میں سروسز ڈومیسٹک ریگولیشن، ترقی اور ای کامرس کیلیے سرمایہ کاری کی سہولت اور صنفی برابری اور خواتین کی معاشی خودمختاری جیسے شعبوں میں شرکت کی دعوت دی گئی۔

رکن ممالک نے پاکستان کی طرف سے تجارتی سہولت کاری کے معاہدے پر 86.1 فیصد عمل درآمد کرنے کی تعریف کی۔

ڈبلیو ٹی او ارکان نے کسٹمز کلیئرنس کے طریقہ کار میں تبدیلی کرنے اور پاکستان سنگل ونڈو جیسا اہم قدم اٹھانے پر پاکستانی اقدامات کو سراہا۔

متعلقہ تحاریر