قومی اسمبلی کا نیا قائد ایوان کون ہو گا؟ کاغذات نامزدگی جمع ، فیصلہ کل
قائد ایوان کے انتخاب کے لیے ن لیگ کے میاں شہباز شریف ، سردار ایاز صادق ، خواجہ سعد رفیق ، خواجہ محمد آصف نے ، پی تی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سید نوید قمر اور سید خورشید شاہ نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی عہدے سے برطرفی کے بعد قومی اسمبلی میں وزارت عظمیٰ کے لیے انتخاب کل ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے قائد ایوان کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کی نشست کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔
تفصیلات کے لیے مطابق قومی اسمبلی کل اپنے نئے قائد ایوان کا انتخاب کرے گی جس کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے گئے ہیں۔ ن لیگ کے صدر شہباز شریف اور پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کی جانب سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ جمع کرائے ہپں۔
یہ بھی پڑھیے
نوازشریف اور زرداری اپنی حکومتیں بچانے کیلیے غیر آئینی اقدام کرتے رہے
سپریم کورٹ کا پنجاب اسمبلی کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ لے جانے کا حکم
میاں شہباز شریف نے ذاتی طور پر قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں حاضر ہو کر کاغذات نامزدگی جمع کرائے جبکہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے علی محمد خان اور عامر ڈوگر نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف اور رانا محمد تنویر شہباز شریف کے تائید کنندہ اور تصدیق کنندہ تھے۔ متحدہ اپوزیشن نے 13 کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ جبکہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے 4 کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان اور ملک عامر ڈوگر وزارت عظمیٰ کے امیدوار شاہ محمود قریشی کے تائید کنندہ اور تصدیق کنندہ ہیں۔
ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سید خورشید شاہ اور سید نوید قمر کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں جبکہ ن لیگ کی جانب سے سردار ایاز صادق ، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ محمد آصف نے بھی کاغذات نامردگی جمع کرائے ہیں۔
ملک عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شاہ محمود قریشی ہوں گے۔
شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی ملیکہ بخاری ، ملک عامر ڈوگر اور زین قریشی نے حاصل کیے تھے۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا وقت پہلے دوپہر 2 بجے مقرر کیا گیا تھا جسے بعد میں بڑھا کر سہ پہر 4 بجے کر دیا گیا تھا۔ کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال 3 بجےسہ پہر ہونی تھی جسے شام ساڑھے 4 بجے کردیا گیا تھا تاہم بعد میں اعلان کیا گیا کہ قائدایوان کے انتخاب کیلئے کاغذات نامزدگی دوپہر دو بجے تک وصول اور سہ پہر تین بجے جانچ پڑتال کی جائے گی۔
نئے قائد ایوان کا انتخاب کل پیر کو عمل میں آئے گا جس کے لئے پہلے پیر کی صبح گیارہ بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا جسے تبدیل کردیا گیا۔اب قومی اسمبلی کا اجلاس 11 اپریل پیر کو دوپہر 2 بجے ہو گا۔









