سکھر میں مضر صحت اشیاء کی فروخت جاری، سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر

سماجی حلقوں اور سول سوسائٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان ، وزیر اعلیٰ سندھ و دیگر بالا حکام سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

سکھر شہر میں مضر صحت اشیاء پان پراگ ، گٹکا کی خرید و فروخت کا سلسلہ تھم نہ سکا ، اسمگلنگ کے ذریعے مضر صحت اشیاء کی سپلائی جاری ، سماجی حلقوں کا کہنا ہے معاشرتی برائیوں کے خاتمے کیلئے انتظامیہ موثر کارروائی عمل میں لائے۔

تفصیلات کے مطابق عدالت عالیہ کے واضح احکامات کے باوجود شہر میں رمضان المبارک کے مقدس ایام کے دنوں میں پان پراگ، گٹکا و دیگر مضر صحت نشہ آور اشیاء کی خرید و فروخت کھلے عام جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

محکمہ انسداد تجاوزات کراچی کا شہر کے مختلف علاقوں میں آپریشن کلین اپ

مگر افسوس متعلقہ محکمے اس سلسلے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں، کھلے عام مضر صحت اشیاء کی فروخت کے باعث نوجوان طبقہ مضر صحت اشیاء کی لت میں مبتلا ہوکر مختلف امراض کا شکار ہوکر اسپتالوں کا رخ کررہا ہے۔

سکھر کے سماجی حلقوں سمیت سکھر کی سول سوسائٹی کے نمائندگان نے سکھر پولیس سمیت محکمہ کسٹم سکھر کے عملے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکموں نے مضر صحت اشیاء کی فروخت کیلئے اسمگلرز کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔

ان کا کہنا ہے اسمگلرز کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے متعلقہ محکموں کے عملے کے افراد نے رشوت کے عوض خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

سماجی حلقوں اور سول سوسائٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان ، وزیر اعلیٰ سندھ و دیگر بالا حکام سے اپیل کی کہ نوٹس لیکر اسمگلنگ کی روک تھام کے ساتھ مضر صحت اشیاء کی خرید و فروخت کو بھی روکا جائے تاکہ نوجوان نسل کو مختلف امراض سے بچایا جاسکے۔

متعلقہ تحاریر