سمندر پار پاکستانیوں کو پاکستانی سیاست پر بات کرنے کا حق کیوں نہیں؟

سمندر پار پاکستانیوں کو شناختی کارڈ  جاری کیے جاتے ہیں ، کشمیر،بلوچستان اور خالصتان کے حق میں مہمات بیرون ملک مقیم پاکستانی چلاتے ہیں،تمام سیاسی جماعتوں نے بیرون ملک چیپٹر بنارکھے ہیں،پاکستان میں تمام رفاہی اداروں کی فنڈنگ کا انتظام سمندر پار مقیم پاکستانی کرتے ہیں ، ملکی زرمبادلہ کا دار و مدار بھی سمندر پار پاکستانیوں پر ہے

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی  حکومت کے خاتمے کے بعد سمندر پار پاکستانیوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔سمندر پار مقیم پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامی اس قدر رنجیدہ اور دلبرداشتہ  ہیں کہ قومی پرچم اور پاسپورٹ جلانے پربھی آمادہ ہوگئے ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیو ں پر یہ اعتراض اٹھایا جارہا ہے کہ جب آپ پاکستان میں نہیں رہتے تو یہاں کے سیاسی معاملات پر فکرمند کیو ں ہوتے ہیں۔ آپ اپنی غیرملکی شہریت اور پاسپورٹ چھوڑ کر پاکستان آئیں  اور پھر سیاست پر بات کریں ورنہ خاموش رہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لندن : اورسیز پاکستانیوں کا عمران خان کے حق میں نوازشریف کے گھر کا گھیراؤ

عمران خان کی رخصتی ، کراچی سے خیبر تک مظاہرے شروع

  نیوز 360 سے گفتگو میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے خود پر ہونے والی تنقید کے جواب میں جو دلائل پیش کیے ہیں ان پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں ۔بیرون ملک مقیم پاکستانی  ملک  کے معاملات میں مداخلت کیلیے پہلی دلیل یہ پیش کرتے ہیں حکومت پاکستان انہیں اپنا شہری تسلیم کرتی ہیں، انہیں باقاعدہ NICOP(نیشنل آئیڈینٹٹی کار فار اوور سیز پاکستانیز) جاری کیا جاتا ہے ۔اس کے برعکس بھارت اپنے بیرون ملک مقیم شہریوں کو نان ریزیڈنٹ انڈین (این آر آئی) کارڈ جاری کرتا ہے ۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہمیں  اپنا شناختی کارڈ جاری کرتی ہے تو ہم کیوں ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی دوسری اہم دلیل یہ ہے کہ جب  بیرون ملک کشمیر اور فلسطین  کی آزادی  کیلیے مہمات چلائی جاتی ہیں توفنڈز جمع کرنے سے لیکر مظاہروں کے انعقاد تک  تمام انتظامات سمندر پار پاکستانی ہی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان سے متعلق بھارتی پروپیگنڈے کے توڑ اور خالصتان  تحریک کیلیے سکھوں کو اکٹھا کرنے کا کام بھی بیرون ملک مقیم پاکستانی ہی  انجام دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اسلامو فوبیا کے تدارک اور پاکستان کے حوالے سے مثبت تاثر اجاگر کرنے کیلیے تھنک ٹینکس کا قیام بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بدولت ہی ممکن ہوتا ہے۔

سمند رپار پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں کام کرنے والی تقریباً تمام رفاہی تنظیموں  کی سرگرمیوں کا دارومدار بھی بڑی حد تک امریکا او ربرطانیہ سمیت بیرون ملک سے ملنے والی امدادی رقوم  پر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رفاہی  تنظیمیں اپنے فنڈز اکٹھے کرنے کیلیے  بیرون ملک کا رخ کرتی ہیں تو فنڈ ریزر تقریبات  کاانعقاد بھی بیرون ملک مقیم پاکستانی ہی کرتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے  کہ پاکستان شاید دنیاکا واحد ملک ہے جس کی تمام سیاسی جماعتوں نے بیرون  ملک چیپڑ بنا رکھے ہیں  ،تمام سیاسی جماعتیں بیرون ملک اپنی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہیں ،فنڈز اکٹھے کرتی ہیں،ان کے رہنما بیرون ملک کے دورے کرکے سیاسی اجتماعات سے خطاب کرتے ہیں ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی بیرون ملک ہونے والی تمام سیاسی سرگرمیوں اور رہنماؤں کے دورے اور رہائشی کا انتظام بھی ہم ہی کرتے ہیں ۔

اس کے علاوہ پاکستان سے جانے والی تبلیغی جماعتوں کی میزبانی کا فریضہ بھی وہاں مقیم پاکستانی ہی انجام دیتے ہیں، تبلیغی جماعتوں کی رہائش، کھانے پینے کا انتظام اور دیگر تمام سرگرمیوں کی ذمے داری وہاں مقیم پاکستانی ہی انجام دیتے ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا مزید کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت میں ریڑھ ہڈی کی حیثیت رکھنے  والے زرمبادلہ کادار ومدار بھی سمندر پار پاکستانیوں پر ہے،اگر وہ ڈالر اور دیگر غیرملکی کرنسی پاکستان بھیجنا چھوڑ دیں یا اسے بھیجنے کیلیے بینکنگ چینل کے بجائے حوالہ اور ہنڈی کا استعمال شروع کردیں تو پاکستانی معیشت چند ہفتوں میں منہ کے بل گر سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کیلیے کی گئی ان   خدمات کے بعد سمندر پار مقیم پاکستانی کیسے اپنے ملک سے لاتعلق رہ سکتے ہیں ۔ملک میں سیاسی عدم استحکام اور بدعنوان سیاستدانوں  کے برسراقتدار آنے  پر ان بے چین ہونا ایک فطری عمل ہے۔

متعلقہ تحاریر