پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں مشکلات کا اندیشہ
فیچ نے رپورٹ جاری کردی، اشیا کی بڑھتی قیمتوں سے بیرونی اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہوگا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہے گا۔
اشیاء کی بڑھتی قیمتوں سے پاکستان کو بیرونی اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا، تیل کی قیمتوں میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے بڑھے گا، عالمی ریٹنگ کے ادارے فیچ نے پاکستان سے متعلق اپنی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2022 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہے گا۔
فروری کے جائزے میں کرنٹ کاونٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4 فیصد رکھا گیا تھا۔
تیل کی قیمیتں کم ہونے سے مالی سال 2023 میں کرنٹ کاونٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
فیچ کے مطابق مالی سال 2023 میں پاکستان کو 20 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنا ہوگی، ادائیگیوں میں چین اور سعودیہ عرب کے ڈپازٹ بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تجارتی خسارے اور سرمائے کے اخراج سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی، قرض و سود کی ادائیگیوں سے زرمبادلہ ذخائر پر دباو بڑھے گا۔
فروری سے یکم اپریل 2022 کے درمیان اسِٹِیٹ بینک ذخائر 5 ارب ڈالر کم ہوئے، اس وقت اسٹیٹ بینک کے ذخائر 11 ارب 30 کروڑ ڈالر کی سطح پر ہیں۔
فیچ کا کہنا ہے کہ ذخائر میں کمی چین کو 2.4 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ حکومت میں تبدیلی آئی ایم ایف پروگرام کے بقیہ جائزوں میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔
نئی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری رکھیں گے۔
اس بات کا بھی امکان ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں اتحادی حکومت سے ٹیکس اصلاحات میں تبدیلیوں کے لیے بات کریں گی جو کہ طویل ہو سکتی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات پر دی گئی سبسڈی کے باعث مذاکرات میں مشکلات درپیش ہوں گی، فیچ نے کہا کہ پاکستان بیرونی لیکویڈیٹی پوزیشن کو جلد بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پیش گوئی کے مطابق اجناس کی قیمتیں اتنی نہیں بڑھیں، پاکستان کی چین سے فنانسنگ مضبوط رہے گی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی قیادت میں تبدیلی سے دوطرفہ تعلقات میں تبدیلی کا امکان نہیں۔









