ناظم جوکھیو قتل کیس میں اہم پیش رفت،جام برادران کے نام چالان سے خارج
پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم اور رکن سندھ اسمبلی جام اویس سمیت 8 افراد کے نام مقد مے سے خارج کیےجانے کا انکشاف

کراچی میں ناظم جوکھیو قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی جام بردران سمیت 8 ملزمان کے نام چالان سے خارج کردیے گئے ہیں۔
ناظم جوکھیو قتل کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری نے چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کروادیا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں انصاف نہیں،ناظم جوکھیو کا قتل کیس واپس لیتی ہوں،بیوہ کااعلان
ناظم جوکھیو قتل کیس کے ملزم رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم پاکستان پہنچ گئے
عدالت میں جمع کرائے گئے چالان سے پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم اور رکن سندھ اسمبلی جام اویس کے علاوہ محمد سلیم، محمد دودا خان،محمد سومار،عبدالرزاق،جمال احمد اور محمد معراج کے نام مقد مے سے خارج کردیے گئے ہیں۔
چالان کے مطابق کیس میں حیدر علی ولد بھورا خاصخیلی اور میر علی ولد رب ڈنو جوکھیو کو بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ ناظم جوکھیو کو نومبر 2021 میں میمن گوٹھ تھانے کی حدود میں قتل کیا گیا تھا ۔جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر نے کیس میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔
سینئر صحافی مبشر زیدی نے مقدمے کے چالان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری آئندہ انسانی حقوق پر بات کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
Sindh Prosecutor General struck out names of @PPP_Org MNA Jam Karim & MPA Jam Awais from list of accused for killing Nazim Jokhio. Now only two security guards remained accused. Next time @BBhuttoZardari should refrain from talking about human rights #JusticeforNazimJokhio pic.twitter.com/JzmhUcshvC
— Mubashir Zaidi (@Xadeejournalist) April 13, 2022
سینئر صحافی مظہر عباس نے صحافی ناظم جوکھیو کے قتل کیس کے چالان سے مرکزی ملزمان کے نام خارج کرنے کی مذمت کرتے ہوئے صحافتی تنظیموں سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
Injustice with the family of journalist Nazim Jokio. Name of main suspect a PPP MNA has been removed from the final murder challan. Shame on Sindh police and Sindh government. Journalists bodies should stand with the widow.
— Mazhar Abbas (@MazharAbbasGEO) April 13, 2022
انہوں نے لکھا کہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس کے لیے شرم کا مقام ہے۔صحافتی تنظیموں کو ناظم جوکھیو کی بیوہ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔









