وزیراعظم کی وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے کے مسائل حل کرنیکی یقین دہانی

مراد علی شاہ نے شہباز شریف کو سندھ کا مقدمہ پیش کردیا، وزیراعظم نے فنڈز فراہمی سمیت دیگر معاملات حل کرنیکی یقین دہانی کروا دی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ میں صوبے کے ترقیاتی پروگراموں سمیت وفاق اور سندھ کے مسائل سے متعلق اہم اجلاس ہوا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مزار قائد پر حاضری اور سندھ آ کر بہت خوش ہوں، ہمیں اس ملک کو ملکر خوشحال، پُرامن کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پچھلی حکومت کو نکالنے کے شادیانے بجانے کے بجائے عوام کی خدمت کرنا ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ سائیٹ کی جتنی بھی سڑکیں ہیں ان کی تعمیر کیلیے وفاقی حکومت اخراجات دے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کے سامنے سندھ کا مقدمہ پیش کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے توانائی، کراچی ٹرانسفارمیشن، جامشورو – سیہون ڈوئل کیرج وے، پاکستان میڈیکل کمیشن، کراچی کے 3 اسپتالوں کا کنٹرول، پانی کے مسائل، کراچی ماس ٹرانزٹ، کراچی کے پانی کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کی ٹریفک کا مسئلہ اور بی آر ٹی سروس کی کامیابی کے سی آر پر منحصر ہے۔

وفاقی حکومت نے کے سی آر پروجیکٹ 201 ارب روپیہ کی لاگت سے پی پی پی موڈ پر منظور کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک کے تحت تعمیر کیا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مراد علی شاہ کو یقین دہانی کروائی کہ سرکلر ریلوے کو دوبارہ سی پیک کا حصہ بنائیں گے۔

چیئرمین واپڈا نے کے فور پراجیکٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ 260 ایم جی ڈی کا پراجیکٹ ہے اور اس کی مالیت 126 ارب روپے ہے۔

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا کو کے فور پراجیکٹ 2024 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ  کی درخواست پر وزیراعظم نے کے فور کے فنڈز بھی مہیا کرنے کی ہدایت کردی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے 165.7 ارب روپے کی لاگت سے منظور ہوا یہ روڈ وفاقی حکومت  پی پی پی موڈ پر بنانا چاہتی ہے۔

حیدرآباد سکھر موٹروے 306 کلومیٹر طول 6 رویہ کشادہ سڑک ہوگی۔

دوسری طرف جامشورو سہیون روڈ کیلیے 7 ارب روپے سندھ حکومت نے 2017 میں ادا کردیئے تھے لیکن یہ روڈ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔

وزیراعظم  نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو جامشورو حیدرآباد روڈ پر کام تیز کرنے کی ہدایت دے دی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں سندھ کو سال 22-2021 میں 419.7 ارب روپے کی 103 اسکیمز دی گئیں۔

نئے مالی سال کے لئے حکومت سندھ نے نئی 25 اسکیمز وفاقی حکومت کو بھیجی ہیں، وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ یہ اسکیمز منظور کر کے سندھ کے زخموں پر مرہم رکھی جائے۔

وزیراعظم کا نئے سال کی پی ایس ڈی پی میں سندھ کے ترقیاتی پراجیکٹس  شامل کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔

وزیراعلیٰ سندھ نےوزیراعظم شہباز شریف کو کراچی کے تین  بڑے اسپتالوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2011 میں جناح اسپتال، کارڈیو اور بچوں کا اسپتال حکومت سندھ کو دیا گیا تھا۔

حکومت سندھ نے 2011 سے لے کر اب تک JPMC, NICVD, NICH کو اپ گریڈ کیا ہے۔

پی ایم سی میں کینسر کا علاج بھی مفت کیا جاتا ہے جبکہ حکومت سندھ نے این آئی سی وی ڈی کے 8 سیٹیلائٹ سینٹرز بھی قائم کئے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ 2011 میں این آئی سی وی ڈی کا کل خرچہ 30 کروڑ روپے تھا، اس وقت اسپتال کا سالانہ خرچہ 6 ارب روپے ہے۔

وفاقی حکومت نے مارچ 2019 میں جے پی ایم سی کیلئے ایک بورڈ بنایا، یہ بورڈ ابھی تک کام نہیں کر رہا اور اس بورڈ سے اسپتال کی کارکردگی خراب ہوگی۔

حکومت سندھ نے سال 2011 سے لے کر 2022 تک ان تینوں اسپتالوں پر 30559.9 ملین روپے خرچ کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ کراچی کے تینوں بڑے اسپتال حکومت سندھ کو دیئے جائیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومت معاہدہ کرے گی، ان اسپتالوں کا کنٹرول سندھ حکومت کو دیا جائے گا۔

اجلاس میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، مفتاح اسماعیل، اکرم درانی، مریم اورنگزیب، خالد مقبول صدیقی، خواجہ اظہار، کنور نوید، مولانا اسد محمود اور چیئرمین واپڈا، چیئرمین ریلویز، چیئرمین این ڈی ایم اے، وفاقی سیکریٹریز صالح فاروقی، عزیز عقیلی اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے۔

متعلقہ تحاریر