پاکستان کی تلخ یادوں نے جمائمہ کا ساتھ نہ چھوڑا

مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عمران خان کے خلاف احتجاج کیلیے جمائمہ کے گھر کا انتخاب کیا گیا ہے، جمائمہ نے افسوس کا اظہار کیا۔

عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈاسمتھ نے اپنے گھر کے باہر 17 اپریل کو طے شدہ احتجاجی مظاہرے کا پوسٹر شیئر کرتے ہوئے پاکستان میں گزارے گئے برے دنوں کو یاد کیا۔

جمائمہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میرے گھر کے باہر احتجاج، میرے بچوں کو نشانہ بنایا، یہودیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز باتیں کرنا، یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ میں 90 کی دہائی کے لاہور میں پہنچ گئی ہوں۔

یہ ٹویٹ کرتے ہوئے جمائمہ نے ہیش ٹیگ پرانا پاکستان بھی لکھا، عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ ان کی پہلی پوسٹ ہے۔

عمران خان اور جمائمہ گولڈاسمتھ کی شادی 1995 سے 2004 تک رہی تھی۔ دونوں کے دو بچے ہیں۔

عمران خان سے طلاق کے بعد جمائمہ نے پاکستان چھوڑ کر لندن میں سکونت اختیار کرلی تھی۔

کئی انٹرویوز میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح ان کو یہودی ہونے کی بنا پر نفرت انگیز جملوں سے نشانہ بنایا جاتا تھا۔

جمائمہ نے پچھلے سال بھی ایک ٹویٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے مریم نواز شریف کی تقریر کا ایک جملہ شیئر کیا، میرے بچے ‘یہودیوں کی گود میں پل رہے ہیں’۔

جمائمہ نے کہا کہ میں نے 2004 میں پاکستان چھوڑ دیا تھا، پورے دس سال تک مجھ پر یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز جملوں سے حملہ کیا گیا۔

میڈیا اور سیاستدان اس میں ملوث تھے، ہر ہفتے ہی مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتیں اور میرے گھر کے باہر احتجاج ہوتا، اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

متعلقہ تحاریر