مہدی حسن اور حفیظ ہوشیارپوری کو کریڈٹ نہ ملنے پر بھارتی صحافی نالاں
انڈین ایکسپریس میں خاتون صحافی صوانشو کُھرانا نے کالم لکھا، انہوں نے کہا کہ عروج نے اپنی تقریر میں کسی کو بھی کریڈٹ نہیں دیا۔

نصف صدی سے زائد عرصے تک حفیظ ہوشیارپوری کی غزل ‘محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے’ کو مہدی حسن نے نئی زندگی دی، انہوں نے اس کو بہت حساسیت اور نرمی کے ساتھ گایا۔
ان خیالات کا اظہار بھارتی صحافی صوانشو کُھرانا نے انڈین ایکسپریس میں تحریر کردہ اپنے کالم میں کیا۔
صوانشو نے لکھا کہ یہ غزل اس قدر مقبول ہوئی کہ اسے عظیم گلوکاروں فریدہ خانم، اقبال بانو اور جگجیت سنگھ نے بھی گایا۔
لیکن ان کے مطابق مہدی حسن نے دراصل ‘محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے’ کو ایک نئی زندگی دی۔
امریکی نژاد پاکستانی گلوکارہ عروج آفتاب پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہوں نے بہترین عالمی موسیقی پرفارمنس کا گریمی ایوارڈ جیتا۔
یہ ایوارڈ عروج کو حفیظ ہوشیارپوری کی غزل کو نئے صوفی انداز میں گانے پر ملا جس کو عروج نے ‘محبت’ کا ٹائٹل دیا۔
صوانشو نے بتایا کہ عروج کا ایوارڈ جیتنا پورے برصغیر کے لیے بہت خوشی کی بات ہے۔
یہ غزل پہلی بار حفیظ ہوشیار پوری نے لاہور کے مشہور گورنمنٹ کالج میں سنہ 1929 میں پڑھی تھی۔
یہ غزل موسیقی کی مختلف جہتوں جیسا کہ جاز، ہندوستانی موسیقی، صوفی اور فوک موسیقی کے زیر اثر ہے لیکن عروج نے ان سب کا ذکر نہیں کیا۔
صوانشو نے شکوہ کیا کہ عروج نے نا اپنی البم کے ڈیجیٹل ورژن میں نا ہی ایوارڈ جیتنے پر خطاب میں کسی کو کریڈٹ دیا۔
نا ہی شاعر کو، نا موسیقار کو، حالانکہ عروج نے بھی گانے کی بنیادی دُھن تبدیل کیے بغیر اپنی البم میں استعمال کی۔
انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے کالم کے مطابق عروج کی گائی ہوئی غزل میں صرف رفتار، آواز اور انداز کا فرق تھا۔
گریمی ایوارڈ یقیناً عروج کی پرفارمنس کیلیے تھا لیکن انہیں چاہیے تھا کہ اس غزل کے شاعر، پہلی بار اس کی دُھن ترتیب دینے والے اور گانے والے افراد کو بھی کریڈٹ دیتیں۔









