بلی تھیلے سے باہر آگئی، زرداری نے ساراحکومتی بوجھ نون لیگ پر ڈال دیا

ہم کوشش کر رہے ہیں وزراتیں نہ لیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں دوستوں کو پہلے ایڈجسٹ کریں، زرداری

تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو برطرف کرنے میں کامیاب ہونے والی حکومتی اتحاد کی اہم ترین جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے ساتھ وزارتوں کے معاملے پر اختلاف اب کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے پیپلزپارٹی  وزارتیں نہیں لے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں وزراتیں نہ لیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں دوستوں کو پہلے ایڈجسٹ کریں۔

یہ بھی پڑھیے

اتحادیوں کو حکومتی کشتی سے چھلانگ لگانے کیلیے جادوئی فون کال کا انتظار

بلاول زرداری کی ہدایت پر ایم کیو ایم سے معاہدے پر عملدرآمد کیلئے کمیٹی تشکیل

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ  کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مشاورت کےبعد اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کو وزارتیں دینے کا وعدہ کیا تھا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتوں کی بندربانٹ کے حوالے سے اتحادیوں میں شدید اختلافات ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کو وزارت خارجہ کا عہدہ دیئے جانے کے امکانات ہیں تاہم اس کے ساتھ  ہی داخلہ اورقانون کی وزارت پر پیپلز پارٹی اورن لیگ میں اختلاف ہوگیاہے، پیپلزپارٹی نے رات گئے داخلہ اورقانون کی وزارتیں بھی مانگ لیں  ہیں  اورمسلم لیگ نون پیپلزپارٹی کے مطالبات کو ماننے پر تیار نہیں ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے دونوں میں سے ایک وزارت پیپلز پارٹی کو دینے کی تجویز دی ہے۔ جس کے بعد احسن اقبال کو منصوبہ بندی و ترقیات اور راناثنا اللہ کو وزارت قانون کی جگہ کوئی دوسری وزارت دینے پر غور شروع ہوگیا۔ ذرائع نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے شازیہ مری کو بھی وزارت دینےکامطالبہ کیا ہے۔

حکومتی اتحاد کی ایک اور اہم  جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان  نے بھی فی الحال کابینہ میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا ہے گذشتہ روز ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا  جس میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ساتھ معاہدوں پر عمل درآمد کے  لئے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق سندھ میں بااختیار بلدیاتی نظام پر ہونے والے مذاکرات سے رابطہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ۔ دوسری جانب اجلاس میں وفاقی کابینہ میں شمولیت کے حوالے سے کی گئی پیشکش پر بھی غور کیا گیا ۔

متعلقہ تحاریر