تحریک انصاف کا کراچی جلسہ: ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد اہم امتحان
پی ٹی آئی کا کراچی کا جلسہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد عمران خان کے امریکہ مخالف بیانیے کی عوامی مقبولیت کا تعین کرے گا۔
کراچی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا آج کا جلسہ اس بات کا تعین کرے گا کہ ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی-آئی ایس پی آر) کس حد تک سابق وزیراعظم کے بیانیے کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے جس میں عمران خان نے کہا تھا کہ میری حکومت غیرملکی سازش کے ذریعے ختم کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر بابر افتخار نے اپنے پریس کانفرنس میں اس بات کا برملا اظہار کیا تھا کہ سفارتی کیبل میں کسی سازش کا ذکر نہیں تھا جبکہ عمران خان عوام کے سامنے اپنا بیانیہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ ان کی حکومت کو امریکی مدد سے دیگر سیاسی جماعتوں نے مل کر گرایا ہے اور اس کے ان کے پاس ناقابل تردید ثبوت ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کی اپیل، دنیا بھر سے چندہ دینے والوں کی قطاریں لگ گئیں
تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل ہی ڈپٹی اسپیکر عہدے سے مستعفی ہوگئے
زمینی حقائق کا تجزیہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا امریکی مخالف بیانیہ دن بدن زور پکڑتا جارہا ہے کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں نے نئے انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے رواں یعنی رمضان میں پشاور میں ایک زبردستی عوام طاقت کا مظاہرہ کیا تھا جس میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی تھی۔
پی ٹی آئی کی مقامی لیڈرشپ اور انتظامیہ نے کراچی کے باغ جناح گراؤنڈ میں عوامی جلسے کی بے مثال اور بھرپور تیاریاں کرلی ہیں ، عوامی جلسے سے سابق وزیراعظم عمران خان آج خطاب کریں گے۔

گزشتہ روز عمران خان نے پی ٹی آئی کے کارکنوں سے درخواست کی تھی کہ کراچی جلسے میں تمام کارکنان بھرپور شرکت کریں ، تمام کارکنان پاکستانی پرچم لے کر آئیں جو اس بات کے عکاس ہوں کہ اب ہر پاکستانی اپنی خودمختاری اور حقیقی جمہوریت کے خلاف کوئی سازش قبول نہیں کرے گا اور نہ امریکی کی طرف سے مسلط کی گئی حکومت کو قبول کرے گا۔
Want to thank all those who came to our jalsa in Peshawar making it a mammoth & historic jalsa. The passion & commitment crowd showed in support of an indep sovereign Pak & their total rejection of US-initiated regime change bringing to power criminals, shows where nation stands.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) April 14, 2022
سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں واضح طور پر کہا تھا کہ "امپورٹڈ_حکومت_نامنظور”
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "میرے 123 ایم این ایز قابل تعریف ہیں جن کے استعفے اسپیکر قاسم سوری نے قبول کیے، امریکی کی جانب سے سزا یافتہ مجرموں اور ضمانت پر رہا لوگوں کی حکومت مسلط کی گئی جو پاکستان کی خودمختاری کی توہین ہے۔”
Want to appreciate our 123 MNAs as their resignations have been accepted by Speaker Qasim Suri. Their standing firm for a sovereign Pak & against US-initiated regime change bringing to power criminals, convicted & on bail – the ultimate insult to any self respecting indep nation.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) April 14, 2022
ڈی جی-آئی ایس پی آر نے ’مداخلت‘ کی تصدیق کردی
گزشتہ دنوں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی-آئی ایس پی آر) میجر جنرل بابر افتخار نے سفارتی کیبل کی سچائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اعلامیے میں ‘سازش’ کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم سفارتی کیبل کو پاکستان کے اندرونی معاملے میں مداخلت قرار دیا تھا۔
ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے موجودہ سیاسی بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فوج کا سیاست سے کچھ لینا دینا ہے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے اور نہ ہی فوج کا عدلیہ پر کوئی اثر و رسوخ ہے۔

مبینہ دھمکی آمیز خط کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے میجر بابر افتخار کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اجلاس ک میں سازش کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت قرار دیا گیا۔ اس مداخلت کی وجہ سے حکومت کی جانب سے امریکی سفارت کار کو سخت مراسلہ وصول کرایا گیا۔
سفارتی کیبل اور سابق وزیراعظم کا دعویٰ
سابق وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت گرانے کی سازش رچی گئی تھی جسے سفارتی کیبل کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔ پاکستانی کی دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھمکی آمیز خط کو جعلی قرار دیا تھا تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس نے دھمکی آمیز خط کی سچے ہونے کی تصدیق کردی ، تاہم انہوں نے کسی قسم کی سازشی دعوے کو مسترد کردیا۔
علاوہ ازیں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کسی ملک نے فوجی اڈوں کا مطالبہ نہیں کیا اگر کرتے تو فوج بھی کہتی کہ ’بالکل نہیں‘۔









