حمزہ شہباز 197 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری نے حمزہ شہباز کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب کی کامیابی کا اعلان کیا۔

پنجاب اسمبلی قائد ایوان کے انتخاب کے اجلاس کی اندرونی کہانی ، دن بھر ہنگامہ آرائیوں کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب منتخب کرلیا گیا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے ، صوبہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا الیکشن 16 اپریل ہفتے کے روز ہوا، اپریل کے آغاز میں عثمان بزدار کے بعد سابق گورنر پنجاب کے بعد طلب کردہ اجلاس بلاآخر ہو ہی گیا۔

قائد ایوان کے انتخاب کے اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے نظر آئے اور مختلف اوقات میں صورتحال کشیدہ رہی، اجلاس حکومت کی مرضی کے خلاف بلانے پر چوہدری سرور اپنے عہدے سے فارغ ہوئے اور ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کو بھی حکومتی ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑا۔

لاہور ہائیکورٹ نے معاملے کو سلجھتے ہوئے اجلاس مقررہ وقت 16 اپریل کو ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی صدارت میں کروانے کا حکم جاری کر دیا۔ اجلاس پنجاب اسمبلی کے جاری اعلامیے کے مطابق16 اپریل بروزِ ہفتے کو دن 11 بجے منعقد ہونا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان تحریک انصاف معاشرے کے ہر طبقے کی آواز بن گئی

بلی تھیلے سے باہر آگئی، زرداری نے ساراحکومتی بوجھ نون لیگ پر ڈال دیا

ہفتے کی صبح اسمبلی کیا صورتحال رہی

پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے پولیس کی باری نفری تعینات رہی اسمبلی کے اندر اور باہر سیکورٹی کے انتظامات سخت رہے۔ حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے اراکین گروپس کی شکل میں اسمبلی پہنچے۔ متحدہ اپوزیشن کے اراکین لاہور کے مقامی ہوٹل سے بسوں میں اسمبلی پہنچے۔

جیت کے دعوے دار

اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو میں اراکین اسمبلی اپنے اپنے امیدواروں کی جیت کیلئے پر امید نظر آئے، متحدہ اپوزیشن کے وزارت اعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز نے 198 اراکین ساتھ ہونے کا دعویٰ کیا تو حکومتی امیدوار پرویز الہٰی بھی اپنی کامیابی کیلئے پر امید نظر آئے کہا ہمارے نمبر گیم پوری ہے۔

اسمبلی اجلاس شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی کی نظر

پنجاب اسمبلی میں دن گیارے بجے جاری ایجنڈے کے مطابق قائد ایوان کے انتخاب کا اجلاس تاخیر سے تقریباً سوا گھنٹہ تاخیر سے شروع ہونے سے پہلے التوا کا شکار ہوگیا۔

ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری اسمبلی اجلاس کی صدارت کرنے کیلئے ایوان میں پہنچے ہی تو ہنگامہ آرائی شروع ہوگیا، حکومتی اراکین کی جانب سے اسپیکر پر حملہ کیا گیا لوٹے لوٹے کے شدید نعرے بازی کے بعد اراکین نے ڈپٹی اسپیکر پر دھاوا بول دیا بال کھنچنے، مارا پیٹا بھی۔

سیکورٹی اہلکار بمشکل قائم مقام اسپیکر کو ایوان سے ان کو چیمبر لیں کر گئے۔ اس دوران حکومتی اراکین نے اسپیکر کی کرسی کو اٹھا کر پہنکا، اور ایوان میں لوٹے لوٹے ہر طرف نظر آنے لگے۔

صورتحال کشیدہ ہوتے ہی آئی جی پنجاب پولیس کی بھاری نفری سے اسمبلی سیکرٹریٹ پہنچ گئے جبکہ اسمبلی احاطہ میں پرویز الہٰی کی جانب سے ترجمان فیاض الحسن چوہان اور حمزہ شہباز شریف کی طرف سے عطاء اللہ تارڑ اور ملک محمد احمد خان میڈیا سے بات کرتے رہے اور ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے جبکہ پرویز الہٰی کی دو مختلف ویڈیوز اس دوران سامنے آئی جس میں اس ہنگامہ آرائی پر پرویز الہٰی شاباش دیتے رہے جبکہ دوسری ویڈیو میں آئی جی پنجاب کے اسمبلی پہنچنے پر سیخ پا ہوگے اور کہا پولیس کو کوئی اختیار نہیں وہ ایوان میں مداخلت کریں میں آئی جی سے پوچھو گا اور ایک ماہ کی سزا بھی دوں گا۔

پانچ گھنٹے اسمبلی میں صورتحال غیر معمولی رہی اور گرفتاریاں ہوئیں

پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر پر حملے کے بعد اسمبلی سیکرٹریٹ میں غیر معمولی صورتحال رہی پنجاب اسمبلی کے چاروں اطراف باہر اندر اور ایوان کے اطراف میں پولیس ہی پولیس نظر آتی رہی۔ اس دوران اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کرنے والے اراکین کے خلاف مقدمات درج کرنے اور گرفتاریوں کی خبریں گردش ہونے لگی، جبکہ تین گھنٹے کے وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہونے کیلئے گھنٹیاں بچانا شروع ہوگئی، اجلاس کے دوبارہ آغاز میں اسمبلی ایوان میں پولیس کی بھاری نفری ایوان میں نظر آئی، سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کے اراکین اور پولیس، آنٹی رائٹ فورس کے اہلکاروں کے درمیان شدید کشیدگی نظر آئی اور پنجاب اسمبلی کا ایوان مچھلی میدان جنگ بنا رہا اسمبلی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا، قانون کے رکھوالے اور قانون بنانے والے اس طرح اسمبلی سیکرٹریٹ میں ایک دوسرے کو مارتے پیٹتے رہے۔ اس دوران پی ٹی آئی اور ق لیگ کے امیدوار چوہدری پرویز الہٰی سمیت متعدد اراکین بھی اس لڑائی میں آگئے اور مختلف اراکین کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔ پولیس نے حکومتی 4 سے 5 ارکان کو وقتی طور پر اپنی حراست میں بھی لیا۔ صورتحال کشیدگی کے بعد ق لیگ اور پی ٹی آئی نے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔

اسمبلی اجلاس دوبارہ شروع

صورتحال کنٹرول ہونے پر پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا، ایجنڈے کے مطابق کاروائی شروع ہوئی اور قائد ایوان کے لئے انتخاب شروع ہوا، اس طرح متحدہ اپوزیشن کے امیدوار میاں حمزہ شہباز شریف 197ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور پنجاب کے 21 ویں وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے

متعلقہ تحاریر