مداخلت نہیں سازش تھی عمران خان نے کراچی جلسے میں عوام سے کہلوا دیا
سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سازش کے تحت ہمارے ملک کے اوپر ایک میر جعفر کو مسلط کردیا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان ایک مرتبہ پھر عوام سے اگلوانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ انہیں ہٹانے کے لیے سازش کی گئی تھی ، جبکہ گذشتہ دنوں پاکستان کے سب سے اہم ادارے کے ترجمان کی جانب سے دیئے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ مراسلے میں سازش کا کہیں ذکر نہیں تھا۔
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک بڑے جلسے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے شرکاء جلسہ سے سوال اٹھا کہ ہمارے ملک کے خلاف جو سازش ہوئی تھی وہ سازش تھی یا مداخلت ۔ جس پر جلسے کے شرکاء نے یک زبان ہو کر کہا سازش تھی۔
یہ بھی پڑھیے
ہم خانہ جنگی سے چند قدم دور ہیں، فواد چوہدری نے خبردار کردیا
تحریک انصاف کے کارکنوں کی چاند نواب کے ساتھ بدتمیزی
عمران خان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح کے اوپر ہمارے ملک کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی ملک کے خلاف نہیں ہوں ۔ نہ میں اینٹی انڈین ہوں ، نہ میں اینٹی یورپین ہوں اور نہ ہی میں اینٹی امریکہ ہوں۔ میں صرف انسانیت کے ساتھ ہوں ۔ میرا رب ، رب العالمین ہے اور میرے لیڈر رحمت العالمین ہیں۔ اس لیے میں کسی قوم کے خلاف نہیں ہوں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ہماری سب سے طاقت ور پاکستانی کمیونٹی ہے ، وہ پاکستان کو پیسے بھیجتے ہیں جس پر ہمارا ملک چلتا ہے ، لیکن میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں دوستی سب سے چاہتا ہوں غلامی کسی سے نہیں چاہتا ۔ آج کراچی آیا ہوں تو لوگوں نے کہا کہ عمران خان آپ کی جان کو خطرہ ہے اندرونی طور پر بھی بیرونی طور پر بھی ۔
انہوں نے کہا میں بتا دیناچاہتا ہوں کہ میری جان اتنی ضروری نہیں جتنی اس ملک کو آزادی کی ضرورت ہے۔ یہ جو سازش ہوئی ہے یہ آپ کو غلام رکھنے کی سازش ہوئی ہے ۔ ایک میر جعفر کو ہمارے اوپر مسلط کردیا گیا ہے ، میر جعفر کون تھا ؟ میر جعفر ایک غدار تھا ، جس نے انگریزوں کے ساتھ مل کر سراج الدولہ کے خلاف سازش کی تھی ، اور بنگال انگریزوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ پھر انگریزوں نے ٹیکسز لگائے اور کسان غریب ہو گیا ، قحط پڑ گیا ، کروڑوں لوگ قحط کی وجہ سے بنگال میں مرے ۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت ہم پر بھی ایک میر جعفر مسلط کردیا گیا ہے۔ ہمیں تین چار ماہ پہلے ہی پتا چل گیا تھا کہ میری حکومت کے خلاف سازش تیار کی جارہی ہے ، امریکی سفارتخانے میں اپوزیشن کے لوگوں نے ملاقاتیں شروع کیں ، اور وہ لوٹے انہوں نے بھی ملاقاتیں شروع کردیں ۔ کئی مشہور صحافیوں نے بھی امریکی حکام سے ملاقاتیں شروع کردیں۔ ایک صحافی نے تین ماہ پہلے مجھے بتایا کہ ہم بہت زیادہ پیسہ خرچ ہورہا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ سازش تو پہلے سےتیار ہورہی تھی۔
سابق وزیراعظم عمران خان گذشتہ رات کراچی میں جلسہ عام میں یہ بات کامیابی سے ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ ان کی حکومت کو ہٹانے کےلیے سازش رچی گئی تھی اور اس کے تانے بانے امریکہ اور پاکستانی سیاستدانوں سے ملتے ہیں۔ پی ٹی آئی لوٹے ارکان اور سینئر صحافی بھی اس میں ملوث تھے۔
دوسری جانب جمعرات کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر میجر بابر افتخار نے اپنے پریس کانفرنس میں اس بات کا برملا اظہار کیا تھا کہ سفارتی کیبل میں کسی سازش کا ذکر نہیں تھا جبکہ عمران خان عوام کے سامنے اپنا بیانیہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ ان کی حکومت کو امریکی مدد سے دیگر سیاسی جماعتوں نے مل کر گرایا ہے اور اس کے ان کے پاس ناقابل تردید ثبوت ہیں۔
اپنے خطاب کے ابتداء میں سابق وزیراعظم عمران خان نے جلسے کے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کراچی والوں دل آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، آج کراچی میں بہت اہم بات کرنے آیا ہوں کہ مسئلہ آپ کے مستقبل کا ہے ، مسئلہ آپ کے بچوں کے مسقتبل ہے ، مسئلہ تحریک انصاف کا نہیں ہے ، مسئلہ پاکستان کا ہے، ہمارے ملک کے خلاف جو سازش ہوئی ہے ہمیں اس سازش کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا ہے۔









