مفتاح اسماعیل نے بھی پچھلی حکومت میں برآمدات بڑھنے کا اعتراف کرلیا

وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان 5575 ارب روپے کا تاریخی خسارہ چھوڑ کرگئے ہیں، اشیائے خورونوش 17 فیصد مہنگی ہیں۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی حکومت میں دوسرے سال شرح نمو صفر سے نیچے چلی گئی تھی، انہوں نے کہا کہ اس وقت اشیائے خور و نوش 17.3 فیصد مہنگی ہیں۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت 5 ہزار 575 ارب روپے کا تاریخی خسارہ چھوڑ گئے ہیں۔

عمران خان نے چار سال میں 20 ہزار ارب روپے سے زائد کا قرضہ لیا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ تمام حکومتوں نے پچھلے 71 برس میں 25 ہزار ارب قرضہ لیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) دو ہزار ارب روپے قرض لیا کرتی تھی جبکہ عمران خان ساڑھے چار ہزار ارب روپے سالانہ قرضہ لے رہے تھے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک کا سالانہ قرضہ 900 فیصد بڑھا دیا، 6 فیصد کا گروتھ ریٹ بھی نہ دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت میں برآمدات بڑھی تھیں لیکن مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا اور برآمدات سے زیادہ درآمدات بڑھ گئیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایس این جی پی ایل میں 200 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

گیس سیکٹر میں اس سے پہلے کوئی گردشی قرضہ نہیں تھا لیکن اب 1500 ارب روپے کا گردشی قرضہ صرف گیس سیکٹر میں ہے۔

مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ پیٹرول سستا کرنا کوئی احسان نہیں ہوتا، 80 لیٹر پیٹرول پر 1680 روپے سبسڈی ملتی ہے، عمران خان بارودی سرنگ لگا کر گئے ہیں۔

متعلقہ تحاریر