صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لینے کیلیے کسی فرد کو مقرر کریں، لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ کا حکم نامہ جاری، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ 24 گھنٹے میں گورنر کی طرف سے حلف نہ لینے کی وجوہات صدر کو بھیجی جائیں گی۔

لاہور ہائیکورٹ نے صدر مملکت کو حکم دیا ہے کہ نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے حلف لینے کیلیے دوسرے فرد کو مقرر کریں۔
نومنتحب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے حلف نہ لینے کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ مزید 24 گھنٹے میں وجوہات صدر کو دے دی جائیں گی، فوری طور پر گورنر پنجاب صدر مملکت کو حلف نہ لینے کی وجوہات نہیں دے سکتے۔
حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ 21 دن گزر گئے اور حلف تعطل کا شکار ہے، عدالت گورنر کو حلف لینے کا حکم دے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ گورنر تو حلف نہیں لینا چاہتے۔
حمزہ شہباز کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حلف لینے سے انکار کرنا آئین سے انحراف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر گورنر عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کرتا تو تمام فوجداری کارروائی اس کے خلاف ہوسکتی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گورنر پنجاب نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے عذر تحریری وضاحت کے ساتھ صدر مملکت کو بھجوائیں گے۔
عدالت نے کہا کہ گورنر نے باقاعدہ طور پر اس عدالت کو حلف نہ لینے سے متعلق بتایا کہ وہ صدر مملکت کو اپنی وجہ بتائیں گے۔
عدالت مناسب سمجھتی ہے کہ عدالت کے اس حکم کو صدر مملکت کو بھجوایا جائے۔
عدالت نے صدر مملکت کو نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف لینے کیلیے دوسرے فرد کو مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔









